اسپین کے امیگریشن دفاتر نے اوپن امیگریشن کے خلاف ہڑتال کی دھمکی دے دی

Screenshot

Screenshot

اسپین کے امیگریشن دفاتر نے غیر قانونی تارکین وطن کے لیے عام معافی (ایمنسٹی) پروگرام کے خلاف ہڑتال کی دھمکی دے دی ہے۔ یہ پروگرام وزیر اعظم پیدروسانچز کی حکومت کی جانب سے شروع کیا جا رہا ہے، جس کے تحت اندازاً پانچ لاکھ درخواستیں موصول ہو سکتی ہیں۔

خبر رساں ادارے کے مطابق حکومت نے منگل کے روز کابینہ اجلاس میں اس منصوبے کی منظوری دے دی، جبکہ آن لائن درخواستوں کا آغاز 16 اپریل سے ہوگا۔ تاہم امیگریشن افسران کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام اتنی بڑی تعداد میں درخواستوں کو سنبھالنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

امیگریشن حکام نے اعلان کیا ہے کہ وہ 21 اپریل سے ہڑتال شروع کر سکتے ہیں، جو اس وقت شروع ہوگی جب ایک روز قبل یعنی 20 اپریل سے ذاتی طور پر درخواستیں وصول کرنے کا عمل شروع ہوگا۔ ہڑتال کی صورت میں امیگریشن سے متعلق تمام درخواستیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

یونین رہنما سیزر پیریز کے مطابق حکومت ایک بار پھر بغیر مناسب وسائل فراہم کیے بڑے پیمانے پر ریگولرائزیشن کر رہی ہے، جس سے دفاتر پر بوجھ بڑھے گا۔

دباؤ کم کرنے کے لیے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک کے 54 امیگریشن دفاتر میں سے صرف 5 دفاتر براہ راست درخواستیں سنبھالیں گے، جبکہ باقی کام سوشل سیکیورٹی دفاتر، ڈاک خانوں اور غیر سرکاری تنظیموں میں تقسیم کیا جائے گا۔

اعداد و شمار کے مطابق اسپین کی تقریباً 5 کروڑ آبادی میں ایک کروڑ افراد بیرون ملک پیدا ہوئے ہیں، جبکہ ایک تھنک ٹینک کے مطابق اس وقت تقریباً 8 لاکھ 40 ہزار غیر قانونی تارکین وطن کام کر رہے ہیں۔

دوسری جانب حزب اختلاف کی جماعت پاپولر پارٹی نے اس منصوبے کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔ میڈرڈ کی علاقائی صدر ازابیل دیاز  نے اس پروگرام کو عدالت میں چیلنج کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔

وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے اس اقدام کو نہ صرف انصاف بلکہ معیشت کے لیے بھی ضروری قرار دیا ہے، کیونکہ ان کے مطابق یہ پروگرام ملک کی بڑھتی عمر کی آبادی کے تناظر میں معاشی ضرورت بھی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے