ٹرمپ پالیسیوں کے خلاف اتحاد

Screenshot

Screenshot

،بارسلونا میں عالمی سوشلسٹ رہنماؤں کا اجتماع

اسپین کے شہر بارسلونا میں ان دنوں عالمی سطح پر سوشلسٹ اور ترقی پسند رہنماؤں کا ایک بڑا اجتماع جاری ہے، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں خصوصاً جنگی رجحانات کے خلاف مشترکہ مؤقف اپنایا جا رہا ہے۔ اس کانفرنس کی قیادت ہسپانوی وزیر اعظم پیدروسانچز کر رہے ہیں، جو خود کو عالمی سطح پر ٹرمپ کے بڑے سیاسی مخالف کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

اس اہم فورم، جسے “گلوبل پروگریسو موبلائزیشن” کہا جا رہا ہے، میں دنیا بھر سے آٹھ سربراہان حکومت سمیت چالیس ممالک اور سو سے زائد تنظیموں کے نمائندے شریک ہیں۔ نمایاں شرکاء میں میکسیکو کی صدر Claudia Sheinbaum، برازیل کے صدر Luiz Inácio Lula da Silva، کولمبیا کے صدر Gustavo Petro اور چلی کے سابق صدر Gabriel Boric شامل ہیں۔

یہ اجلاس فیرا دی بارسلونا کے وسیع ہالز میں منعقد ہو رہا ہے، جہاں عالمی رہنما امریکی پالیسیوں خصوصاً ایران کے حوالے سے بڑھتی کشیدگی اور ممکنہ جنگی خطرات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس دوران “جنگ نہیں” کا پیغام مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے، جسے عالمی بائیں بازو کی جماعتیں مشترکہ طور پر آگے بڑھا رہی ہیں۔

اسی موقع پر اسپین اور برازیل کے درمیان پہلی اعلیٰ سطحی دوطرفہ سربراہی ملاقات بھی ہو رہی ہے، جو Palau de Pedralbes میں منعقد ہو رہی ہے۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی ملاقات ہے جس میں لاطینی امریکہ کے کسی ملک کے ساتھ اس سطح کا تعاون دیکھا جا رہا ہے۔

کانفرنس میں یورپی کونسل کے صدر António Costa، جنوبی افریقہ کے صدر Cyril Ramaphosa اور دیگر عالمی رہنما بھی شریک ہیں۔ اس کے علاوہ جرمنی کے نائب چانسلر Lars Klingbeil اور معروف سیاسی شخصیات بھی اجلاس میں حصہ لے رہی ہیں۔

اجلاس کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا جس میں ایران کے حوالے سے امریکی دباؤ اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر سخت مؤقف اپنایا جائے گا۔ ساتھ ہی انتہا پسند دائیں بازو کی سیاست کے بڑھتے اثرات کو روکنے کے لیے بھی مشترکہ حکمت عملی طے کی جائے گی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے