Screenshot
اسپین کا بیلوِیچے ہسپتال روبوٹک سرجری کے ذریعے گردے کی پیوندکاری میں ملک کا نمایاں رہنما بن چکا ہے۔ 2018 میں پہلی بار یہ طریقہ اپنانے کے بعد اب تک 300 سے زائد کامیاب ٹرانسپلانٹس کیے جا چکے ہیں۔ صرف 2025 میں ہسپتال نے 207 گردوں کی پیوندکاریاں کیں، جن میں 43 زندہ عطیہ دہندگان سے تھیں، اور یہ سب روبوٹک سرجری کے ذریعے انجام دی گئیں۔ گزشتہ تین برسوں سے یہ ہسپتال زندہ ڈونر ٹرانسپلانٹس میں بھی سرفہرست ہے، اور مجموعی روبوٹک ٹرانسپلانٹس میں 90 فیصد سے زیادہ زندہ عطیہ دہندگان سے کیے گئے ہیں۔
روبوٹک سرجری کی خاص بات اس کی انتہائی درستگی ہے، جس سے نہ صرف آپریشن زیادہ محفوظ ہوتا ہے بلکہ مریض کی صحت یابی بھی تیز ہوتی ہے اور پیچیدگیوں کا خطرہ کم رہتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ڈاکٹروں کو پیچیدہ کیسز، جیسے موٹاپے کے شکار مریض یا دائیں گردے کی پیوندکاری، میں بھی بہتر نتائج حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے۔
یہ پروگرام آٹھ سال پہلے ڈاکٹر فرانسسک ویگس کی قیادت میں شروع کیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق مختلف شعبوں پر مشتمل ٹیم، جس میں یورولوجی، نیفرولوجی، اینستھیزیا اور نرسنگ کے ماہرین شامل ہیں، اس کامیابی کی اہم وجہ ہے۔
2020 میں ہسپتال نے دنیا کی پہلی روبوٹک آرتھو ٹوپک گردہ پیوندکاری بھی کی، جس میں مریض کے خراب گردے کو نکال کر اسی جگہ نیا گردہ نصب کیا جاتا ہے۔ یہ ایک پیچیدہ اور کم استعمال ہونے والا طریقہ ہے، خاص طور پر ان مریضوں کے لیے جو روایتی سرجری نہیں کرا سکتے۔
بیلوِیچے ہسپتال کے ماہرین نے اسپین کے دیگر بڑے ہسپتالوں میں بھی اس جدید ٹیکنالوجی کے آغاز میں رہنمائی فراہم کی ہے، جس سے ملک بھر میں اس طریقہ علاج کو فروغ ملا ہے۔
حال ہی میں جدید Da Vinci SP روبوٹک سسٹم کی شمولیت سے مزید کم تکلیف دہ سرجری ممکن ہو گئی ہے، جس میں ایک ہی چیرا لگا کر یا قدرتی راستوں سے آپریشن کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کو امید ہے کہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کے ذریعے مزید پیچیدہ اور پہلے ناممکن سمجھی جانے والی سرجریز بھی ممکن ہو سکیں گی۔
