اندلس انتخابات 2026: سوشلسٹ پارٹی کی گھر گھر مہم، 5 لاکھ 80 ہزار غیر فعال ووٹرز کو متحرک کرنے کا فیصلہ

Screenshot

Screenshot

اندلس میں آئندہ علاقائی انتخابات کے پیشِ نظر PSOE-A نے بھرپور انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے، جس کا بنیادی ہدف ان 5 لاکھ 80 ہزار ووٹرز کو دوبارہ متحرک کرنا ہے جنہوں نے 2023 کے عام انتخابات میں ووٹ دیا تھا مگر 2022 کے علاقائی انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔

پارٹی ذرائع کے مطابق اس بار حکمت عملی نہایت منظم اور براہِ راست رابطے پر مبنی ہے۔ سوشلسٹ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انہیں ان ووٹرز کے بارے میں مکمل معلومات حاصل ہیں، جن میں ان کے رہائشی علاقے اور اہم مسائل شامل ہیں۔ اسی بنیاد پر انہیں ایک ایک کر کے قائل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ وہ ووٹ ڈالنے کے لیے باہر نکلیں۔

اسی مہم کے تحت پارٹی نے ٹیلی فون کالز کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا ہے، جس کے ذریعے روزانہ تقریباً 3 لاکھ افراد سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔ ان کالز میں بعض خودکار ہیں جبکہ کئی میں پارٹی کارکن براہِ راست گفتگو کر کے ووٹرز کے سوالات کے جواب بھی دے رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق 2022 کے علاقائی انتخابات میں سوشلسٹ پارٹی کو تقریباً 8 لاکھ 83 ہزار ووٹ ملے تھے، جبکہ صرف ایک سال بعد 2023 کے عام انتخابات میں یہ تعداد بڑھ کر 14 لاکھ 67 ہزار سے تجاوز کر گئی۔ اس فرق سے پارٹی قیادت کو یقین ہے کہ بڑی تعداد میں ان کے حامی صرف گھروں تک محدود رہے تھے، نہ کہ مخالف جماعتوں کو ووٹ دیا۔

دوسری جانب Juanma Moreno کی قیادت میں پاپولر پارٹی کے ووٹ تقریباً یکساں رہے، جسے سوشلسٹ اس بات کا ثبوت قرار دیتے ہیں کہ ان کے ووٹرز مخالف جماعت کی طرف منتقل نہیں ہوئے بلکہ صرف غیر فعال رہے۔

پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ اس بار اصل مقابلہ ووٹرز کو متحرک کرنے کا ہے، کیونکہ دائیں بازو پہلے ہی بھرپور طریقے سے متحرک ہو چکا ہے۔ اس مقصد کے لیے مہم میں صحت، تعلیم، اور مساوات جیسے عوامی مسائل کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے۔

وزیراعظم پیدروسانچز بھی اس مہم میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں اور مختلف جلسوں میں شرکت کر کے ووٹرز کو متحرک کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کوئی بھی حامی گھر نہ بیٹھے اور بائیں بازو کے ووٹ کو متحد کیا جائے۔

اسی طرح ماریا خیسوس مونتیرو کو بطور امیدوار پیش کرتے ہوئے پارٹی اتحاد اور اندرونی استحکام کو بھی اپنی طاقت قرار دے رہی ہے۔ سوشلسٹ رہنماؤں کے مطابق اگر وہ اپنی گزشتہ نشستوں میں بہتری لانے میں کامیاب ہو گئے تو سیاسی منظرنامہ یکسر تبدیل ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ انتخابی مہم اس بات کا امتحان ہوگی کہ آیا سوشلسٹ پارٹی اپنی روایتی حمایت کو دوبارہ متحرک کر پاتی ہے یا نہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے