اسپین کی حکومت کا مہاجرین کی ریگولرائزیشن سے متعلق “افواہوں” پر انتباہ، کہا: اس سے رہائش مہنگی نہیں ہوتی
Screenshot
وزارتِ شمولیت، سماجی تحفظ اور مہاجرت نے پیر کے روز مہاجرین کی غیر معمولی ریگولرائزیشن کے عمل سے متعلق پھیلنے والی “افواہوں” سے خبردار کیا ہے اور اس بات کی تردید کی ہے کہ اس سے ہاؤسنگ مارکیٹ مہنگی ہوتی ہے۔
اس وزارت، جس کی سربراہی ایلما سائیز کر رہی ہیں، کے ذرائع نے واضح کیا کہ یہ دعویٰ “غلط” ہے کہ یہ عمل نئے آنے والے مہاجرین کے لیے ہے۔ ان کے مطابق یہ صرف ان افراد کے لیے ہے جو ریگولرائزیشن کے اعلان سے پہلے ہی اسپین میں موجود تھے۔
وزارت نے یہ بھی کہا کہ مجرمانہ ریکارڈ نہ ہونا اور اس کا ثبوت دینا ہمیشہ سے ایک لازمی شرط رہی ہے، جیسا کہ دیگر امیگریشن طریقہ کار میں بھی ہوتا ہے۔
اسی طرح یہ بات بھی مسترد کی گئی کہ اس عمل سے دفاتر جیسے پوسٹ آفس یا سوشل سیکیورٹی مراکز پر دباؤ بڑھے گا۔ حکام کے مطابق مخصوص اور اضافی اوقات مقرر کیے گئے ہیں اور ذاتی حاضری صرف پیشگی وقت (اپائنٹمنٹ) کے ذریعے ہوگی۔
مہاجرین کے سرکاری خدمات کے “غلط استعمال” کے خدشات پر وزارت نے کہا کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق غیر ملکی افراد مقامی آبادی کے مقابلے میں صحت کی سہولیات کا کم استعمال کرتے ہیں۔
یوکرینی شہریوں کے بارے میں وضاحت کی گئی کہ وہ غیر قانونی حیثیت میں نہیں ہیں اور ان کے لیے الگ طریقہ کار موجود ہے، جس میں درخواست دینے کی کوئی آخری تاریخ نہیں۔
وزارت نے مزید کہا کہ یورپی یونین کے تحت ہر ملک کو اپنے علاقے میں موجود افراد کے بارے میں فیصلے کا اختیار حاصل ہے، اور اس طرح کے اقدامات پہلے بھی دیگر ممالک میں کیے جا چکے ہیں۔
رہائش کے معاملے پر وزارت نے زور دیا کہ غیر ملکی افراد مارکیٹ کو مہنگا نہیں کرتے بلکہ خود سب سے زیادہ مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق یورپی یونین سے باہر کے 23 فیصد غیر ملکی افراد گنجان گھروں میں رہتے ہیں، جبکہ ہسپانوی شہریوں میں یہ شرح 6 فیصد ہے۔
آخر میں وزارت نے واضح کیا کہ یہ اجازت نامہ صرف رہائش اور کام کے لیے ہے۔ شہریت حاصل کرنے کے لیے الگ اور سخت شرائط ہوتی ہیں، جن میں کئی سال کی قانونی رہائش اور زبان و ثقافت کے امتحانات شامل ہیں۔ لہٰذا ریگولرائزیشن اور شہریت کا حصول آپس میں منسلک عمل نہیں ہیں۔