امریکہ کی 25 ریاستوں نے جن میں دو ایسی ریاستیں بھی شامل ہیں جہاں ریپبلکن پارٹی کی حکومت ہے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے خلاف 60 ممالک پر کسٹم ڈیوٹی (ٹیرف) عائد کرنے پر نیویارک میں واقع امریکی عدالت برائے بین الاقوامی تجارت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکی صدر نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔
ریاستوں کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ "بین الاقوامی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے مبینہ مسئلے اور امریکی ٹریڈ ریپبل کے دفتر کی طرف سے نافذ کردہ جامع عالمی کسٹم ڈیوٹی کے درمیان کوئی منطقی تعلق نہیں ہے”۔
جمعہ کے روز امریکی کسٹم ڈیوٹی کا ایک نیا پیکج نافذ العمل ہو گیا تھا، جس کا ہدف 60 تجارتی شراکت دار ہیں، اور اس نے ٹرمپ کی طرف سے رواں سال کے شروع میں نافذ کردہ اس عالمی ٹیرف کی جگہ لی ہے جس کی مدت ختم ہو چکی تھی۔
امریکہ کے تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا کہ "امریکہ تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت کے ذریعے تیار کردہ سامان کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پابندی پر سختی سے عمل درآمد کر رہا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ ہمارے تجارتی شراکت دار بھی ہمارے نقشِ قدم پر چلیں”۔
یہ ٹیرف جن کی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان ہے کی زد میں چین، بھارت اور یورپی یونین جیسی بڑی معیشتیں آتی ہیں،اس پر بیجنگ اور دیگر ممالک کی طرف سے احتجاج کیا گیا ہے۔
فروری میں سپریم کورٹ کی طرف سے ٹرمپ کی عائد کردہ بعض ڈیوٹیوں کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد جس سے من مانی طور پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کی ان کی صلاحیت محدود ہو گئی تھی، ٹرمپ انتظامیہ نے کسٹم ڈیوٹی کے نظام کو دوبارہ تشکیل دینے کے لیے تیزی سے قدم اٹھایا۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان کوش دیسائی کی طرف سے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ٹرمپ کے اقدامات قانونی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "امریکہ ان ناقابل قبول طریقوں، پالیسیوں اور کارروائیوں کو ختم کرنے کے لیے اپنے قانونی اختیارات کا استعمال کر رہا ہے جو امریکی تجارت پر بوجھ بن رہے ہیں”۔
انہوں نے مزید کہا کہ "صدر کے پہلے دورِ حکومت کے دوران سیکشن 301 کے تحت عائد کردہ ٹیرف ایک مضبوط قانونی آلے کے طور پر ثابت ہوئے ہیں، اور یہ اب بھی ویسے ہی ہیں”۔
تجارت ایکٹ 1974 کا سیکشن 301 امریکہ کو غیر ملکی طریقوں کی تحقیقات کرنے کی اجازت دیتا ہے جنہیں وہ امتیازی سمجھتا ہے اور کسٹم ڈیوٹی عائد کر کے اس کا جواب دیتا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے نے ان ٹیرف کے جواز کے لیے اسی دفعہ کا سہارا لیا تھا۔
صدارتی دورِ حکومت کے لیے وائٹ ہاؤس میں اپنی واپسی کے بعد سے، ٹرمپ نے اس دلیل کے تحت کہ امریکہ کے تجارتی شراکت داروں نے طویل عرصے سے امریکی معیشت کے خرچے پر فائدہ اٹھایا ہے، اپنے شراکت داروں اور حریفوں دونوں پر وسیع پیمانے پر کسٹم ڈیوٹی عائد کرکے عالمی تجارت میں ہلچل مچا دی ہے۔
مقدمے میں شامل 25 ریاستوں میں سے 23 میں ڈیموکریٹک گورنرز کی حکومت ہے، جبکہ نیواڈا اور ورمونٹ کی ریاستوں کی قیادت ریپبلکن گورنرز کر رہے ہیں۔
