Screenshot
برسلز / یورپی کمیشن کے کمشنر برائے داخلہ و مہاجرت، میگنس برونر، نے منگل کے روز کہا ہے کہ کمیشن کو اسپین کی جانب سے منظور کی گئی مہاجرین کی غیرمعمولی ریگولرائزیشن اور گزشتہ ہفتے سیوتا میں پیدا ہونے والے مہاجرین کے بحران کے درمیان کوئی “براہِ راست تعلق” نظر نہیں آتا۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات یورپی یونین کے لیے ایک “منفی اشارہ” بھیجتے ہیں۔
برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا، “ہمیں ریگولرائزیشن اور سیوتا کے واقعات کے درمیان کوئی براہِ راست ربط نظر نہیں آتا۔” یہ بیان ان تنقیدوں کے بعد سامنے آیا ہے جو حالیہ دنوں میں 22 یورپی رکن ممالک کی جانب سے ہسپانوی حکومت کے فیصلے پر کی گئی تھیں۔
تاہم کمشنر نے اس قسم کے غیرمعمولی اقدامات پر برسلز کے تحفظات کو دہراتے ہوئے کہا کہ اگرچہ مہاجرین کی ریگولرائزیشن ہر رکن ملک کا اپنا اختیار ہے اور اسپین کے معاملے میں یہ زیادہ تر لاطینی امریکہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی صورتحال کے تحت کی گئی ہے، جو “ایک ہی زبان” اور “مشترکہ ثقافت” رکھتے ہیں، پھر بھی ایسے اقدامات یورپ کے دیگر ممالک کے لیے کوئی “اچھا پیغام” نہیں دیتے۔
