Screenshot
یورپی یونین کی سربراہ ارزلا فان ڈیر لاین نے پیر کو سپین کے شمالی افریقی انکلیو سیوٹا پر تارکینِ وطن کی یلغار کے بعد سرحدی سلامتی پر "متحدہ کارروائی” کا مطالبہ کیا۔ یہ مسئلہ میڈرڈ اور کئی یورپی شراکت داروں کے درمیان عوامی جھگڑے کا باعث بن گیا ہے۔
اے ایف پی کے ملاحظہ کردہ ایک خط میں فان ڈیر لاین نے ہسپانوی وزیرِ اعظم پیدرو سانچیز کو لکھا، "اس واقعے سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ ہمیں اپنی سرحدوں کو نازک مقامات پر مزید مضبوط کرنے کے لیے مزید کچھ کرنا چاہیے۔”
باخبر نگرانی اور جہاں ضروری ہو، وہاں ٹھوس رکاوٹوں کے استعمال” کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا، "ہماری تمام بیرونی سرحدوں کی حفاظت ایک مشترکہ یورپی ذمہ داری ہے۔”
جس بحران میں دسیوں ہزار لوگ مراکش سے سیوٹا آ گئے تھے، اس سے "تیزی سے نمٹنے” پر فان ڈیر لاین نے سانچیز کی تعریف کی۔ ان میں سے تقریباً تمام واپس جا چکے ہیں۔
لیکن سیوتا میں غیر معمولی مناظر یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کے درمیان شدید کشیدگی کا باعث بن گئے خاص طور پر اٹلی اور ڈنمارک نے سپین کو شینگن زون سے معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔
میڈرڈ نے اسے "خود غرض” قرار دیتے ہوئے مضبوطی سے رد کر دیا جو کسی بھی صورت ای یو قوانین کے تحت قانوناً ناممکن ہے جبکہ مسئلے کے حل کے لیے ای یو وزراء داخلہ کے درمیان ہنگامی گفتگو کا مطالبہ کیا۔
غیر قانونی امیگریشن کے چیلنجز "ایک مشترکہ یورپی ردِ عمل، متحدہ کارروائی اور یکجہتی” کے متقاضی ہیں، اس سے خبردار کرتے ہوئے فان ڈیر لاین نے کہا ہے کہ منگل کی ویڈیو کانفرنس سیوتا واقعے سے "سبق” لینے کا ایک موقع ہو گی۔
انہوں نے بلاک پر زور دیا کہ وہ پانچ شعبوں میں اپنی کوششیں "دوگنا” کرے: شراکت دار ریاستوں سے تعاون کے ذریعے سب سے پہلے غیر قانونی نقلِ مکانی روکنا؛ بیرونی سرحدیں مضبوط کرنا؛ جلد خبردار کرنے والا نظام نافذ کرنا؛ سمگلنگ نیٹ ورکس ختم کرنا اور تارکینِ وطن کی واپسی کو تقویت دینا۔
منگل کے اجلاس کو "پہلا قدم” قرار دیتے ہوئے فان ڈیر لاین نے توقع ظاہر کی ہے کہ رہنما اگلے سربراہی اجلاس میں یہ معاملہ اٹھائیں گے جو فی الحال اکتوبر کے لیے طے شدہ ہے۔
یورپی یونین نے حالیہ مہینوں میں ہجرت کے قوانین نمایاں طور پر سخت کیے ہیں جن میں رکن ممالک کو یہ اجازت دینا بھی شامل ہے کہ وہ پناہ کی تلاش میں ناکام ہو جانے والوں کو بلاک کی سرحدوں سے باہر واقع نام نہاد "واپسی مراکز” میں بھیجیں۔
