Screenshot
کاتالونیا میں شدید گرمی کی لہروں کے باعث ڈوبنے سے ہونے والی اموات میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پروٹیکشن سیول کے مطابق نہانے کے موسم کے آغاز سے اب تک ساحلوں، سوئمنگ پولز اور دریاؤں میں 30 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جو اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ گزشتہ پورے موسمِ گرما 2025 میں یہ تعداد 28 تھی، یعنی تین ماہ میں دو کم اموات ہوئیں جبکہ اس سال صرف ڈیڑھ ماہ میں یہ تعداد اس سے بڑھ گئی ہے۔
متاثرین کی اکثریت عمر رسیدہ مردوں پر مشتمل ہے، جو پہلے سے بیماریوں خصوصاً دل کے مسائل کا شکار تھے اور شدید گرمی کے دباؤ کے باعث پانی میں داخل ہوتے ہی اچانک دل کا دورہ پڑنے سے جان گنوا بیٹھتے ہیں۔
حکام کے مطابق گرمی کی شدت نے نہ صرف ساحلوں پر لوگوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے بلکہ آبی سرگرمیوں میں بھی تیزی آئی ہے، جس کے نتیجے میں حادثات بڑھ گئے ہیں۔ پروٹیکشن سیول، میرین ریسکیو اور گارڈیا سول نے شہریوں سے انتہائی احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 30 ہلاکتوں میں سے 16 ساحلوں پر، 9 سوئمنگ پولز میں اور 5 دریاؤں یا جھیلوں میں پیش آئیں۔ ان میں سے بڑی تعداد بزرگ افراد کی ہے، خاص طور پر وہ جو اکیلے نہانے جاتے ہیں۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ بزرگ افراد کو تنہا پانی میں نہیں جانا چاہیے، جبکہ بچوں کی نگرانی انتہائی ضروری ہے کیونکہ صرف چند منٹ کی غفلت جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق 4 منٹ تک آکسیجن نہ ملنے کی صورت میں دماغ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
مزید یہ کہ دریاؤں اور جھیلوں میں نہانے کے دوران خاص احتیاط کی ضرورت ہے، کیونکہ وہاں پانی کے بہاؤ اور دیگر خطرات سے ناواقفیت حادثات کا سبب بن سکتی ہے۔
کاتالونیا کی حکومت اب ایک نئی قانون سازی پر کام کر رہی ہے جس کے تحت لائف گارڈ سروسز کو بہتر بنایا جائے گا، ساحلوں پر نگرانی کے اوقات بڑھائے جائیں گے اور ہنگامی سروسز کے ساتھ رابطہ مزید مؤثر کیا جائے گا۔
