Screenshot
اسپین، پرتگال اور مراکش کے ساتھ مل کر 2030 کا فٹبال ورلڈ کپ منعقد کرنے جا رہا ہے، تاہم سیوٹا میں حالیہ مہاجرتی بحران کے بعد اسپین کی سیاسی جماعت سُمار نے کانگریس میں ایک نئی تجویز پیش کی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسپین مراکش کے ساتھ مشترکہ میزبانی نہ کرے۔
یولاندا دیاز کی جماعت سُمار نے بدھ کے روز ایک قانون سازی کی تجویز جمع کروائی، جس میں کہا گیا ہے کہ مراکش میں “انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں” کے باعث اس شراکت داری پر نظرثانی کی جائے۔ اس تجویز پر ازکویردا یونیدا کے تین ارکانِ پارلیمنٹ اور سُمار گروپ کی ایک اور رکن کے دستخط موجود ہیں۔
سُمار نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فیفا، رائل ہسپانوی فٹبال فیڈریشن (RFEF) اور پرتگال کی حکومت کو باضابطہ طور پر آگاہ کرے کہ مشترکہ میزبانی کے موجودہ ماڈل کا خصوصی جائزہ لیا جائے۔ پارٹی کے مطابق، اس نوعیت کے عالمی ایونٹس میں عوامی وسائل استعمال ہوتے ہیں، ریاستی ضمانتیں شامل ہوتی ہیں اور میزبان ممالک کی عالمی ساکھ متاثر ہوتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ شریک ممالک انسانی حقوق، بین الاقوامی قوانین اور جمہوری اصولوں کا مکمل احترام کریں۔
مزید برآں، سُمار نے تجویز دی ہے کہ RFEF فیفا کے طے شدہ طریقہ کار کے تحت انسانی حقوق سے متعلق تقاضوں کا جائزہ لے اور میزبان ممالک میں ممکنہ خطرات پر ایک آزاد، شفاف اور تازہ رپورٹ تیار کرے، جو چھ ماہ کے اندر کانگریس میں پیش کی جائے۔
پارٹی نے حکومت سے یہ بھی کہا ہے کہ سیوتا کی سرحد پر پیش آنے والے واقعات کے ورلڈ کپ سے جڑے انسانی حقوق کے وعدوں پر اثرات کا جائزہ لیا جائے، اور اگر کسی ملک کی جانب سے سنگین خلاف ورزیاں ثابت ہوں تو مزید اقدامات کیے جائیں۔
اسی نوعیت کا مؤقف پرتگال کی ماحولیاتی جماعت “لیورے” نے بھی اختیار کیا ہے، جو اس ورلڈ کپ کی مشترکہ میزبان ہے۔ اس جماعت نے اپنی حکومت اور فٹبال فیڈریشن کو خط لکھ کر مراکش کو میزبانی سے الگ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مراکش کی شرکت اب ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے، اور اس پر دہائیوں سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، صحراوی عوام کے خلاف جبر اور سیوٹا میں شہریوں، حتیٰ کہ کم عمر افراد کے استعمال جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
جماعت کے مطابق، موجودہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ مراکش، اسپین اور پرتگال کے درمیان اس بڑے عالمی ایونٹ کے لیے ضروری سیاسی اعتماد، سیکیورٹی اور تعاون کی شرائط پوری نہیں ہوتیں۔
