Screenshot
میلیّا/ خودمختار شہر میلیّا کے پناہ گزین مرکز لا پوریسیما میں درجنوں کم عمر مہاجر بچے فرش پر گدوں، کمبلوں اور کارڈ بورڈ پر سونے پر مجبور ہیں۔ حالیہ دنوں میں بچوں کی تعداد میں تیزی سے اضافے کے باعث مرکز میں شدید بھیڑ ہو گئی ہے اور بچے ہالوں، کمروں اور راہداریوں میں ٹھونس کر رکھے گئے ہیں۔
میڈیا کو ملنے والی تصاویر میں مختلف عمروں کے بچے فرش پر سوتے دکھائی دیتے ہیں، کہیں کارڈ بورڈ بانٹ کر استعمال ہو رہا ہے تو کہیں گندے بستر اور ٹوٹی ہوئی چارپائیاں نظر آتی ہیں، جبکہ جگہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
کئی غیر سرکاری تنظیموں اور مزدور تنظیم CGT نے اس صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ سی جی ٹی کے نمائندے کے مطابق حالات “انتہائی خراب اور افراتفری کا شکار” ہیں، جہاں بچوں کو خوراک، کپڑوں اور صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا ہے۔
تنظیم کے مطابق مرکز میں عملہ بھی کم ہے۔ قانون کے مطابق ہر یونٹ میں کم از کم چار کارکن ہونے چاہئیں، لیکن موجودہ عملہ اس معیار سے کم ہے، خاص طور پر ویک اینڈ پر صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے۔
دوسری طرف این جی او Mec de la Rue نے بچوں کی حالت پر فوری کارروائی کے لیے پراسیکیوٹر سے رجوع کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ خراب حالات کے باعث کچھ بچے مرکز چھوڑ کر سڑکوں پر رہنے لگے ہیں۔
شہری انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں غیر معمولی تعداد میں بچوں کی آمد کے بعد حفاظتی نظام کو مضبوط کیا گیا ہے، تاہم اس وقت مرکز میں بچوں کی تعداد مقررہ گنجائش سے کئی گنا زیادہ ہو چکی ہے اور انہیں دوسرے علاقوں میں منتقل کرنے کی کوشش جاری ہے۔
