Screenshot
سیوتا میں حالیہ مہاجرین بحران کے بعد حکام اس وقت تقریباً 1,100 کم عمر غیر قانونی مہاجرین کی دیکھ بھال کر رہے ہیں، جبکہ ان میں سے 528 بچوں کی شناخت مکمل کر لی گئی ہے۔
قومی پولیس کے مطابق، گزشتہ جمعرات سرحدی باڑ (اسپیگون) کے ذریعے ہونے والی بڑے پیمانے کی دراندازی کے دوران 70 ہزار سے زائد افراد سیوتا میں داخل ہوئے تھے، جن میں بڑی تعداد کم عمر افراد کی بھی شامل ہے۔ ان میں سے کئی اب بھی شہر میں موجود ہیں۔
حکومتی نمائندے میگوئل اینخل پیریز نے بتایا کہ ان بچوں کی شناخت اور رجسٹریشن کو ترجیح دی جا رہی ہے اور انہیں سیوتا حکومت کے زیر انتظام رہائشی مراکز میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ تاہم انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ اب بھی کچھ کم عمر بچے سڑکوں پر موجود ہیں، جو ایک سنگین مسئلہ ہے۔
دوسری جانب سیوتا کے صدر خوان خیسوس ویواس نے کہا کہ شہر کی گنجائش سے کہیں زیادہ بچوں کو سنبھالا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، عام حالات میں سیوتا صرف 90 کم عمر افراد کی دیکھ بھال کر سکتا ہے، مگر اس وقت یہ تعداد 1,100 تک پہنچ چکی ہے، جو کہ گنجائش سے 2,600 فیصد زیادہ ہے اور صورتحال “ناقابل برداشت” ہو چکی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ قانون کے مطابق غیر سرپرست بچوں کو اسپین کے دیگر علاقوں میں منتقل کیا جا رہا ہے اور اس عمل پر عمل درآمد جاری ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اتنی بڑی تعداد میں اچانک آمد کسی بھی قانون یا نظام کے لیے سنبھالنا مشکل ہوتا ہے۔
ویواس نے مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ردعمل تاخیر کا شکار اور ناکافی رہا ہے، اور سیوٹا اس وقت “انتہائی مشکل صورتحال” سے گزر رہا ہے، جس کے لیے فوری مدد درکار ہے۔
ادھر بالغ مہاجرین کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سیوتا کا عارضی مہاجر مرکز (CETI) مکمل طور پر بھر چکا ہے اور مرکز کے باہر موجود افراد کی تعداد اندر موجود افراد سے بھی زیادہ ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مہاجرین مراکش سے تعلق رکھتے ہیں، جسے ہسپانوی قانون کے تحت محفوظ ملک سمجھا جاتا ہے، اس لیے ان کی جلد واپسی کے لیے قانونی کارروائی تیز کی جا رہی ہے۔
