Screenshot
اسپین کے سابق سفیر برائے اقوام متحدہ، انیوسینسیو آریاس نے سیوتا کے مہاجرین بحران پر وزیر اعظم پیدرو سانچیز کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے اینٹینا 3 کے پروگرام ‘ایسپیہو پبلکو’ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یورپ وقتی طور پر اسپین کی حمایت تو کر رہا ہے، مگر طویل مدت میں یورپی ممالک اس معاملے پر منقسم ہیں اور خاص طور پر اسپین کی جانب سے بڑے پیمانے پر مہاجرین کو ریگولرائز کرنے کے فیصلے پر کئی ممالک ناراض ہیں۔
آریاس نے وزیر داخلہ فرناندو گراندے مارلاسکا کے بیانات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ زمینی حقائق کے برعکس صورتحال کو معمول پر ظاہر کر رہے ہیں، جبکہ حقیقت میں سیوٹا میں ایک سنگین انسانی بحران موجود ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ سانچیز حکومت کی پالیسیوں نے “اثرِ کشش” (pull factor) پیدا کیا ہے، جس کی وجہ سے افریقی ممالک سے لوگ اسپین آنے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ انہیں امید ہوتی ہے کہ آخرکار انہیں قانونی حیثیت مل جائے گی۔
آریاس کے مطابق، ہر وہ شخص جو اسپین میں داخل ہو، اسے رہنے کا حق نہیں ہونا چاہیے، سوائے ان لوگوں کے جو مذہبی یا سیاسی ظلم و ستم کا شکار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ معاشی وجوہات کی بنیاد پر آنے والے افراد کو مستقل طور پر رہنے کی اجازت دینا لازمی نہیں۔
انہوں نے مراکش کے ساتھ حکومت کے رویے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ ایک “معمہ” ہے کہ اسپین کی حکومت مراکش کو کیوں رعایتیں دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سانچیز کو اپوزیشن میں ہونا چاہیے تاکہ مستقبل میں وہ اپنی پالیسیوں کی وضاحت کر سکیں۔
آریاس نے یہ بھی کہا کہ چند سال قبل مغربی صحارا کے معاملے پر اسپین کی پالیسی میں تبدیلی مراکش کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی تھی، جس نے اسپین کی دہائیوں پرانی پوزیشن کو بدل دیا۔
