Screenshot
سینیگالی کھانے کے ایک ریستوران سے لے کر فلائٹ اٹینڈنٹ بننے کے خواب یا انگریزی پڑھانے کی خواہش تک، مختلف علامتیں ان لوگوں کی کہانیاں بیان کرتی ہیں جن میں جڑیں پکڑنے، انتظار اور بہتر مستقبل کی امید شامل ہے۔
میڈرڈ کے قلب میں واقع پوئرتا دیل سول کے چوک میں، فرانس سے آئے سیاحوں کا ایک خاندان گھوم رہا ہے، ارجنٹینا کے لوگ ایک طرف جمع ہیں، جبکہ پاکستانی نژاد خوانچہ فروش سورج سے بچاؤ کے لیے چھتریاں فروخت کر رہے ہیں۔ اسی جگہ، جہاں اسپین میں نئے سال کا آغاز گھنٹیوں کی آواز سے ہوتا ہے، آٹھ مہاجر ایک تصویر کے لیے کھڑے ہیں۔ وہ خالی ہاتھ نہیں آئے۔ ہر ایک کے ہاتھ میں ایک ایسی چیز ہے جو یادگار سے بڑھ کر اس کی زندگی کی کہانی بیان کرتی ہے: انگریزی کی کتاب، بلڈ پریشر ناپنے والا آلہ، کھانے کا ڈبہ، روایتی کپڑا یا ایک مائیکروفون۔
ان میں سے کچھ لوگ تقریباً بیس سال سے اسپین میں ہیں جبکہ کچھ کو آئے چند ہی مہینے ہوئے ہیں۔ کچھ اپنی قانونی حیثیت حاصل کر چکے ہیں اور کام کر رہے ہیں، جبکہ کچھ اب بھی اس فیصلے کے منتظر ہیں جو انہیں نئی زندگی شروع کرنے کی اجازت دے گا۔
عبدال مبائے (سینیگال)
44 سالہ عبدال مبائے تقریباً 19 سال پہلے 3,000 کلومیٹر سے زیادہ سفر طے کر کے اسپین پہنچے۔ ابتدائی دنوں میں انہیں مہاجرین کے ایک مرکز میں سہارا ملا جہاں سے انہوں نے قانونی رہائش کے کاغذات حاصل کیے۔ آج وہ میڈرڈ کے علاقے لاواپیئس میں اپنے سینیگالی ریستوران “افریقن فوڈ” کا کھانا ہاتھ میں تھامے کھڑے ہیں۔ اب وہ امید رکھتے ہیں کہ جلد اپنی بیوی اور تین بچوں کو بھی اسپین بلا سکیں گے۔
مارکو فلیچا (پیراگوئے)
48 سالہ مارکو فلیچا پیراگوئے کے ایک چھوٹے گاؤں تاکواتی میں پیدا ہوئے۔ صحافت کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد محبت انہیں اسپین لے آئی، جہاں وہ اپنی ہسپانوی محبوبہ کے ساتھ آئے تھے۔ ابتدا میں وہ صرف تعلیم مکمل کرنے کے لیے آئے تھے، لیکن بعد میں شادی کر لی اور یہیں بس گئے۔ آج وہ ریڈیو میں کام کرتے ہیں اور کہانیاں سناتے ہیں۔ ان کے لیے مائیکروفون ان کی زندگی کی بہترین نمائندگی کرتا ہے۔
تنزیما (بنگلہ دیش)
28 سالہ تنزیما اپنی بیٹی کے ساتھ میڈرڈ آئی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ان کے ملک میں صرف پہلا نام ہی کافی ہوتا ہے۔ اسپین آنے سے پہلے وہ نیدرلینڈز میں رہتی تھیں، مگر مہنگی زندگی اور شوہر کے لیے کام کا اجازت نامہ نہ ملنے کی وجہ سے انہوں نے 2025 میں اسپین کا رخ کیا۔ وہ اب بھی کام کی اجازت کی منتظر ہیں، اس دوران ہسپانوی زبان سیکھ رہی ہیں اور انگریزی پڑھانے کا خواب رکھتی ہیں۔
ایلما شیکدر (بنگلہ دیش)
24 سالہ ایلما نے مالٹا میں ہوٹل مینجمنٹ کی تعلیم مکمل کی، مگر وہاں نوکری نہ ملنے کے باعث 2025 میں اسپین منتقل ہو گئیں۔ وہ اب بھی کام کی تلاش میں ہیں اور اپنے وطن کی ایک روایتی چادر کو اپنے ساتھ رکھتی ہیں، جو ان کی جڑوں سے تعلق کی علامت ہے۔
نصرت جہاں ڈولا (بنگلہ دیش)
ایلما کی ہم عمر نصرت نے بھی مالٹا میں ہیلتھ کیئر کی تعلیم حاصل کی اور پھر اسپین آ گئیں۔ اب وہ Uber Eats کے لیے بطور ڈیلیوری ورکر کام کر رہی ہیں۔ ان کے ہاتھ میں بھی روایتی کپڑا ہے، جو ان کے وطن سے تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔
خوسے مالدونادو (وینزویلا)
27 سالہ خوسے ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس کے اجداد ہسپانوی خانہ جنگی کے دوران وینزویلا گئے تھے۔ آٹھ سال پہلے وہ خود معاشی اور سیاسی بحران کے باعث اپنا ملک چھوڑ کر نکلے۔ اب انہوں نے فلائٹ اٹینڈنٹ کی تربیت حاصل کی ہے، مگر ابھی تک کام شروع نہیں کر سکے۔ انہیں امید ہے کہ 2026 کی ریگولرائزیشن کے بعد ان کا خواب پورا ہو جائے گا۔
گریسیلا ڈیل کارمین فلورس گارسیا (نکاراگوا)
42 سالہ گریسیلا نے نکاراگوا میں سگار بنانے کی صنعت میں کام کیا۔ دو بچوں کی اکیلی ماں ہونے کے باعث وہ بہتر مستقبل کی تلاش میں اسپین آئیں۔ اب وہ بزرگ افراد کی دیکھ بھال کا کام کرتی ہیں اور بلڈ پریشر مشین ان کی نئی زندگی کی علامت ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ ان کے بچے بھی ان کے پاس آ جائیں۔
جولیا مارٹنز کاروالیو ڈی اسیس (برازیل)
21 سالہ جولیا اس گروپ کی سب سے کم عمر رکن ہیں۔ وہ 2023 میں طالب علم ویزے پر اسپین آئیں۔ ویزا ختم ہونے کے بعد انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، مگر اب انہیں سوشل سیکیورٹی نمبر مل چکا ہے اور وہ قابل تجدید توانائی کی کمپنی میں کام کر رہی ہیں۔ ساتھ ہی وہ اپنی تعلیم بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ آٹھ کہانیاں صرف افراد کی نہیں بلکہ ایک ایسے معاشرے کی عکاسی کرتی ہیں جہاں مختلف ثقافتیں مل کر ایک نیا مستقبل تشکیل دے رہی ہیں۔
