Screenshot
اسپین نے یورپی کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ سیئوتا میں غیر قانونی طور پر موجود تارکینِ وطن کی جانچ اور درجہ بندی کے عمل، یعنی ٹریاج (Triaje)، میں یورپی سرحدی ایجنسی فرنٹیکس (Frontex) اور یوروپول (Europol) کی مدد فراہم کی جائے۔
یہ درخواست وزیر داخلہ فرنیندو گراندے مارلاسکا نے جمع کرائی ہے۔ انہوں نے جمعہ کے روز کہا کہ حکومت ان تارکینِ وطن کو مراکش واپس بھیجنے کے لیے کام کر رہی ہے جو اسپین میں قیام کی قانونی شرائط پوری نہیں کرتے۔ مارلاسکا نے پی پی (PP) اور وکس (Vox) پر الزام لگایا کہ وہ تارکینِ وطن کے خلاف نفرت کو ہوا دے رہے ہیں۔
دوسری جانب وزیر خارجہ خوسے مانوئل الباریس نے کہا کہ اسپین کی مراکش کے ساتھ پہلے ہی لمحے سے مسلسل رابطہ کاری جاری ہے۔ ان کے مطابق 30 اور 31 جولائی کو سیئوتا میں داخل ہونے والے افراد میں سے کئی کو 24 گھنٹے سے بھی کم عرصے میں مراکش واپس بھیج دیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 14 اگست کو تارکینِ وطن کی ایک نئی کوشش کو روکنے میں بھی مراکش کے ساتھ تعاون مؤثر رہا۔
وزیر برائے شمولیت ایلما سائث نے ریڈ کراس کے رضاکاروں کے دفاع میں کہا کہ ان رضاکاروں کو دھمکایا یا خوف زدہ نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ رضاکار ایل ترامپولین ساحل پر موجود تارکینِ وطن میں کھانا اور پانی تقسیم کر رہے ہیں۔
دریں اثنا، سیئوتا کی اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک اعلامیہ منظور کیا ہے جس میں شہر میں ہر قسم کے تشدد کی سخت مذمت کی گئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق سیئوتا اس وقت ایک انتہائی نازک صورتحال سے گزر رہا ہے اور شہر نظام کے دباؤ اور ممکنہ انہدام کے قریب پہنچ چکا ہے۔
