Screenshot
سانتیاگو دی کومپوستیلا: اسپین کے شہر سانتیاگو دی کومپوستیلا کے ہسپتال کلینیکو یونیورسٹی کے باورچی خانے میں صفائی اور حفظانِ صحت سے متعلق سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں، جہاں ایک مریض کو فراہم کیے گئے کھانے میں کاکروچ پایا گیا۔ واقعہ ہسپتال کی پانچویں منزل پر زیرِ علاج ایک مریض کو دی جانے والی چاول کی پلیٹ میں پیش آیا۔
ہسپتال کے ملازمین کی نمائندگی کرنے والی یونین CCOO نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ باورچی خانے میں کیڑوں کی موجودگی کوئی نیا یا ایک مرتبہ پیش آنے والا واقعہ نہیں بلکہ گزشتہ کئی ہفتوں سے صورتحال خراب ہوتی جا رہی ہے۔
یونین کے مطابق اگست کے پہلے ہفتوں کے دوران کارکنوں نے باورچی خانے کے مختلف حصوں میں کاکروچ کی تعداد میں اضافہ محسوس کیا۔ خاص طور پر اوونز کے نیچے، سنک کے قریب اور برتن دھونے والے حصے میں کیڑوں کی موجودگی دیکھی گئی، جہاں گرمی، نمی اور عمارت کی دراڑیں ان کے لیے موزوں ماحول فراہم کر رہی ہیں۔
ملازمین کی شکایات کے بعد کیڑوں پر قابو پانے والی ایک خصوصی کمپنی نے کئی دن تک مختلف حصوں میں کارروائی بھی کی، تاہم یونین کا کہنا ہے کہ اسے اس کارروائی کی نوعیت، استعمال ہونے والی دوا، اس کے دورانیے اور بعد ازاں نگرانی کے بارے میں کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
CCOO نے ہسپتال کی عمارت کی خستہ حالی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ یونین کے مطابق باورچی خانے میں دیواروں کی نمایاں دراڑیں، خراب دروازے اور دیگر نقائص موجود ہیں جو کیڑوں کے داخل ہونے کا سبب بن سکتے ہیں۔ ایک دروازہ باورچی خانے کو براہِ راست کچرے کے ڈبوں والے علاقے سے ملاتا ہے۔
یونین نے خبردار کیا ہے کہ ہسپتال کے باورچی خانے میں کاکروچ کی موجودگی عام جگہوں کے مقابلے میں زیادہ حساس مسئلہ ہے کیونکہ یہاں تیار ہونے والا کھانا ایسے مریضوں کو دیا جاتا ہے جو بعض اوقات صحت کے اعتبار سے انتہائی کمزور ہوتے ہیں۔
CCOO نے ہسپتال انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تحریری طور پر وضاحت کرے کہ کیڑوں کی موجودگی کا کب سے علم تھا، ان کے خاتمے کے لیے کون سا نظام استعمال کیا گیا اور مستقبل میں ایسی صورتحال کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
یونین نے مسئلے کے فوری اور مستقل حل کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
