Screenshot
میڈرڈ/ اسپین کے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز نے کہا ہے کہ ان کی حکومت ’’سیوتا کے لیے اور سیوتا کے ساتھ‘‘ کام کر رہی ہے اور شہر جلد معمول کی صورتحال پر واپس آ جائے گا، بلکہ موجودہ بحران کے بعد مزید مضبوط ہو کر ابھرے گا۔ انہوں نے سیوتا کی صورتحال کو حکومت کی اس وقت کی سب سے اہم ترجیح قرار دیا۔
پیدرو سانچیز نے یہ بات نئے سیاسی سال کے آغاز کے موقع پر کانگریس میں حکمران جماعت کے ارکانِ پارلیمنٹ، سینیٹرز اور یورپی پارلیمنٹ کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے اپنی جماعت سے مزید محنت، عزم اور سیاسی جدوجہد کا مطالبہ بھی کیا۔
وزیرِاعظم کے مطابق حکومت کی پہلی ترجیح سیوتا کے شہریوں کو ریاست کے تمام دستیاب وسائل فراہم کرتے ہوئے شہر میں جلد از جلد معمولات زندگی بحال کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران سیوتا اور میلیا کے لیے جمہوری دور کی تاریخ میں پہلے سے کہیں زیادہ وسائل مختص کیے گئے ہیں۔
سانچیز نے بتایا کہ کابینہ نے حال ہی میں سیوتا کے لیے 309 ملین یورو کے نئے منصوبے کی منظوری دی ہے، جس کا مقصد مقامی کاروباری و پیداواری شعبے کی مدد، عوامی خدمات کو مضبوط بنانا اور شہریوں کے تحفظ، خصوصاً سرحدی سکیورٹی کو بہتر بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی دوسری ترجیح مہاجرین کے بحران سے ایک مضبوط جمہوریت کے تقاضوں کے مطابق نمٹنا ہے۔ ان کے بقول ریاستی قانون اور انسانی وقار ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہیں۔
سانچیز نے واضح کیا کہ جن افراد کو اسپین میں پناہ لینے کا قانونی حق حاصل ہوگا، انہیں یہ حق دیا جائے گا، جبکہ جن افراد کو پناہ کا حق حاصل نہیں ہوگا، انہیں قانون کے مطابق واپس بھیج دیا جائے گا۔
وزیرِاعظم نے مزید کہا کہ حکومت یہ بھی جاننا چاہتی ہے کہ جولائی کے آخر میں اصل میں کیا ہوا تھا تاکہ مستقبل میں ایسا بحران دوبارہ پیش نہ آئے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد تمام حقائق عوام کے سامنے مکمل شفافیت کے ساتھ رکھے جائیں گے۔
سانچیز نے اپوزیشن جماعتوں، خصوصاً پاپولر پارٹی (PP) اور ووکس، کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ وہ بحران کے دوران نفرت پھیلانے سے گریز نہیں کرتیں۔
