Screenshot
بارسلونا: بارسلونا کی سیاسی جماعت جونتس (Junts) نے نئے تعلیمی سال کے آغاز پر خاندانوں کو درپیش بڑھتے ہوئے مالی دباؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے میونسپل حکومت سے براہِ راست مالی امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
جونتس کے میونسپل گروپ نے تجویز دی ہے کہ بارسلونا سٹی کونسل خاندانوں کے لیے دو خصوصی امدادی اسکیمیں متعارف کرائے، جنہیں ’’اسکول واپسی چیک‘‘ اور ’’نرسری چیک‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ جماعت کے مطابق ان اقدامات کا مقصد تعلیمی سال کے آغاز پر خاندانوں کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو کم کرنا ہے۔
جونتس کے رہنما جوردی مارتی گالبیس کی جانب سے پیش کی گئی تجویز کے مطابق ’’اسکول واپسی چیک‘‘ کو ترجیحی بنیادوں پر بڑے خاندانوں، اکیلے والدین والے خاندانوں اور ایسے خاندانوں کے لیے مختص کیا جائے جن کے دو یا اس سے زیادہ بچے اسکول جانے کی عمر کے ہیں۔ یہ امداد اسکول کے سامان، کتابوں اور دیگر ضروری تعلیمی اخراجات کو پورا کرنے میں استعمال کی جا سکے گی۔
دوسری جانب ’’نرسری چیک‘‘ ان خاندانوں کے لیے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جنہیں سرکاری نرسری اسکولوں میں جگہ نہیں مل سکی۔ جونتس کا کہنا ہے کہ ایسے خاندانوں کو بچوں کی ابتدائی تعلیم اور نگہداشت کے لیے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
جوردی مارتی گالبیس کے مطابق خاندان پہلے ہی مسلسل بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں اور ستمبر کا مہینہ ان کے لیے ایک مشکل مالی آزمائش بن جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگست کے دوران بھی بہت سے والدین کو کام اور خاندانی ذمہ داریوں میں توازن برقرار رکھنے کے لیے بچوں کے سمر کیمپس کی فیس ادا کرنا پڑی۔
جونتس نے نئے تعلیمی سال کے آغاز پر اساتذہ کی ممکنہ ہڑتال کو بھی والدین کے لیے ایک اضافی تشویش قرار دیا ہے۔ جماعت کے مطابق اس صورتحال سے والدین کے لیے بچوں کی دیکھ بھال اور ملازمت کے درمیان توازن برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
جونتس نے میئر جاؤمے کولبونی کی انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اس مسئلے کے حل کے لیے ابھی تک کوئی متبادل پیش نہیں کیا۔
