Screenshot
بارسلونا/ 2017 میں بارسلونا اور کیمبرلز میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے تقریباً نو سال بعد نئی فلم ’’آپریشن کرونوس‘‘ سینما گھروں میں پیش کر دی گئی ہے۔ فلم میں حملوں کے بعد گزرنے والے ابتدائی گھنٹوں اور دنوں کو مرکزی موضوع بنایا گیا ہے اور دہشت گرد گروہ کے ارکان کی تلاش کے دوران پیش آنے والے واقعات کو مختلف زاویوں سے دکھایا گیا ہے۔
فلم کی کہانی بارسلونا کی معروف شاہراہ لا رمبلا پر ہونے والے حملے سے شروع ہو کر پولیس کی جانب سے کاتالونیا کے علاقے رِپول میں موجود جہادی سیل کے ارکان کی تلاش تک پہنچتی ہے۔ فلم کی ہدایت کاری فرنیندو گونزالیز مولینا نے کی ہے جبکہ اسکرپٹ البرتو مارینی نے تحریر کیا ہے۔ فلم میں اینریک آوکر، دیانا گومیز اور مونیکا لوپیز اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
فلم کی تیاری کے لیے اسکرپٹ رائٹر اور صحافیوں نے دو سال سے زائد عرصے تک تحقیق کی اور حملوں کے بعد گزرنے والے چار دنوں سے متعلق گواہیاں اور معلومات جمع کیں۔ فلم میں ان پولیس اہلکاروں اور دیگر افراد کے تجربات کو بھی شامل کیا گیا ہے جو اس وقت بحران سے نمٹنے کے لیے براہِ راست ذمہ دار تھے۔
فلم سازوں نے فیصلہ کیا کہ دہشت گرد حملوں کے خونریز مناظر کو براہِ راست دکھانے کے بجائے پولیس کی جانب سے دہشت گردوں کی تلاش، معلومات کے انتظام اور معاشرے پر پڑنے والے اثرات کو نمایاں کیا جائے۔
اداکار اینریک آوکر نے کہا کہ فلم صرف دہشت گردوں کی ذمہ داری پر بات نہیں کرتی بلکہ معاشرے کو بھی خود احتسابی کی دعوت دیتی ہے۔ ان کے مطابق یہ سوچنا ضروری ہے کہ نوجوانوں میں انتہا پسندی کے رجحانات پیدا ہونے کے پسِ پردہ معاشرے کا اپنا کردار اور ذمہ داری کہاں تک ہے۔
فلم میں رِپول پر حملوں کے اثرات اور بعد میں اسلام مخالف سیاسی رجحانات کے ابھرنے کو بھی موضوع بنایا گیا ہے۔ فلم کے ہدایت کار اور اداکاروں کا کہنا ہے کہ 2017 کے واقعات کا صدمہ آج بھی معاشرے میں موجود ہے۔
’’آپریشن کرونوس‘‘ کا مقصد حتمی جوابات دینے کے بجائے ناظرین کو دہشت گردی، انتہا پسندی، معاشرتی ذمہ داری اور متاثرین کی یاد کے حوالے سے غور و فکر پر آمادہ کرنا ہے۔
