میڈرڈ/ اسپین کی سپریم کورٹ نے فٹبالر سانتی مینا کو جولائی 2017 میں ایک خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کے جرم میں سنائی گئی چار سال قید کی سزا برقرار رکھی ہے۔ واقعہ المیریا کے علاقے موجاکار میں ایک نائٹ کلب کے قریب کھڑی ایک وین میں پیش آیا تھا، جہاں فٹبالر اپنے دوستوں کے ہمراہ قیام اور سفر کر رہا تھا۔
سپریم کورٹ کے فوجداری مقدمات کے چیمبر نے فٹبالر کی جانب سے اندلس کی ہائیکورٹ (TSJA) کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل مسترد کردی۔ TSJA نے المیریا کی عدالت کی جانب سے سنائی گئی چار سال قید کی سزا برقرار رکھی تھی، تاہم متاثرہ خاتون کو دی جانے والی ہرجانے کی رقم 50 ہزار یورو سے کم کرکے 25 ہزار یورو کردی تھی۔
فٹبالر کے آخری کلب سیلتا ویگو نے اگست 2023 میں سانتی مینا کے ساتھ اپنا معاہدہ یکطرفہ طور پر ختم کردیا تھا۔ اس وقت ان کے معاہدے کی مدت مزید دو سال باقی تھی اور اندلس کی ہائیکورٹ نے المیریا کی عدالت کی سزا کی توثیق کردی تھی۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے متاثرہ خاتون کی قربت، اچانک صورتحال اور اس حالت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دو ایسے جنسی افعال کیے جن پر خاتون کی رضامندی شامل نہیں تھی۔ عدالت کے مطابق فٹبالر نے اس وقت اپنی کارروائی روک دی جب اسے محسوس ہوا کہ مزید کارروائی کے لیے خاتون کی مزاحمت پر قابو پانے کے لیے طاقت کا استعمال کرنا پڑے گا۔
عدالت نے واضح کیا کہ ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ فٹبالر کو خاتون کی جانب سے رضامندی کا کوئی ایسا اشارہ ملا تھا جسے اس نے غلط طور پر رضامندی سمجھا ہو۔
ججوں نے کہا کہ یہ بات ضرور تسلیم کی گئی ہے کہ ملزم نے اس وقت کارروائی روک دی جب متاثرہ خاتون نے اسے رکنے کے لیے کہا۔ تاہم عدالت کے مطابق اس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ کارروائی اسی موقع پر ختم ہوئی اور یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ عدالت نے تشدد یا دھمکی کے استعمال کو کیوں مسترد کیا؛ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ خاتون نے اس سے قبل رضامندی دی تھی یا ملزم کو ایسا یقین تھا۔
سپریم کورٹ نے متاثرہ خاتون کی اپیل بھی مسترد کردی۔ خاتون نے مطالبہ کیا تھا کہ سانتی مینا کو جنسی حملے اور دخول کے جرم میں سزا دی جائے اور اسے آٹھ سال، یا متبادل طور پر چھ سال قید کی سزا سنائی جائے۔
عدالت نے دوسرے ملزم کے خلاف بھی متاثرہ خاتون کی جانب سے دائر درخواست مسترد کردی۔ اس شخص کو پہلے ہی بری کیا جاچکا تھا۔ متاثرہ خاتون نے مطالبہ کیا تھا کہ اسے اس جرم میں ضروری معاون یا متبادل طور پر شریکِ جرم قرار دے کر سزا دی جائے۔
