پاپ موسیقی کی معروف امریکی گلوکارہ اولیویا روڈریگو نے اپنی مختصر مگر شاندار موسیقی کیریئر کے دوران نہ صرف عالمی شہرت حاصل کی بلکہ سماجی اور سیاسی مسائل پر بھی کھل کر آواز اٹھائی ہے۔ 23 سالہ گلوکارہ نے تارکینِ وطن کے خلاف پالیسیوں، خواتین کے تولیدی حقوق، ویکسینیشن سے متعلق آگاہی اور غزہ میں انسانی بحران جیسے اہم معاملات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
نومبر 2025 میں امریکی انتظامیہ کی جانب سے ان کے گانے All-American Bitch کو مبینہ طور پر ملک بدری کی ویڈیوز میں استعمال کیے جانے پر روڈریگو نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے گانوں کو نسل پرستانہ اور نفرت انگیز پروپیگنڈے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
اگست 2026 میں انہوں نے کیلیفورنیا کے شہر اروائن میں اپنا میوزک فیسٹیول Daisy Chain Fields منعقد کیا، جس میں Doechii، Chappell Roan، Alanis Morissette اور Stevie Nicks سمیت کئی معروف فنکاروں نے شرکت کی۔ فیسٹیول کا مقصد خواتین اور تولیدی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی مدد کرنا تھا۔ اس مہم کے ذریعے 10 ملین ڈالر جمع ہوئے، جبکہ مخیر شخصیت Melinda French Gates نے بھی اتنی ہی رقم عطیہ کی، جس سے مجموعی رقم 20 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔
روڈریگو نے اپنی موجودہ میوزک ٹور میں گانا serena joy بھی شامل کیا ہے، جو مارگریٹ ایٹ ووڈ کے ناول The Handmaid’s Tale سے متاثر ہے اور ناانصافی کے خلاف خاموش نہ رہنے کا پیغام دیتا ہے۔
ایسے وقت میں جب کئی فنکار سیاسی معاملات پر خاموش رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں، روڈریگو کا مؤقف نمایاں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ سیاسی ماہر نہیں، لیکن ایک فنکار کی حیثیت سے اپنے جذبات اور دکھ کو لوگوں کے سامنے بیان کرنا ان کے لیے فطری عمل ہے۔ ان کے ساتھ Billie Eilish، Dua Lipa، Lorde، Bad Bunny اور دیگر نئی نسل کے فنکار بھی مختلف سماجی مسائل پر آواز بلند کر رہے ہیں۔
