آج کل زیادہ سے زیادہ نئے والدین اپنے نومولود بچے کی پیدائش کے فوراً بعد رشتہ داروں اور دوستوں کی ملاقاتوں کو محدود یا مکمل طور پر روک رہے ہیں۔ بعض والدین کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد بچے کو انفیکشن سے محفوظ رکھنا، ماں کو آرام کا موقع دینا اور بچے کے ساتھ ابتدائی دن زیادہ نجی ماحول میں گزارنا ہے۔
کئی دادا دادی اور نانا نانی کے لیے یہ فیصلہ آسان نہیں ہوتا۔ ایک دادی نے بتایا کہ جب ان کا پہلا پوتا پیدا ہوا تو وہ اپنے شوہر کے ساتھ اسپتال پہنچیں، لیکن وہاں انہیں بتایا گیا کہ وہ بچے کو ہاتھ نہیں لگا سکتیں کیونکہ والدین کو جراثیم اور بیماریوں کا خدشہ تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ انہیں یہ بات بہت عجیب لگی، تاہم انہوں نے اپنے بیٹے اور بہو کے فیصلے کا احترام کیا اور کئی دن بعد بچے کو گود میں لیا۔
کچھ والدین تو پیدائش کے بعد پہلے چند ہفتوں تک کسی کو گھر آنے کی اجازت بھی نہیں دیتے۔ ایک ماں کے مطابق وہ چاہتی تھیں کہ پہلے دن صرف وہ، ان کے شوہر اور بچہ ایک دوسرے کو سمجھیں اور اس نئے تجربے کو مکمل رازداری کے ساتھ محسوس کریں۔ حمل کے دوران ملنے والے غیر ضروری مشوروں اور بعد از زچگی جذباتی حساسیت نے بھی انہیں یہ فیصلہ کرنے پر آمادہ کیا۔
بعض جوڑوں نے تو رشتہ داروں اور دوستوں کے لیے باقاعدہ اصول بھی بنائے ہیں۔ ان میں بغیر اطلاع اسپتال یا گھر نہ آنا، بیماری یا زکام کی صورت میں ملاقات سے گریز، ہاتھ دھونا، بچے کو بوسہ نہ دینا، تیز خوشبو یا سگریٹ سے اجتناب اور بچے کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر نہ کرنا شامل ہے۔
ماہرین کے مطابق زچگی کے بعد ماں کو جسمانی اور جذباتی آرام کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ کورونا وبا کے دوران ملاقاتوں پر پابندیوں نے بھی بعض والدین کو یہ احساس دلایا کہ کم ملاقاتیں انہیں زیادہ سکون، نیند اور بچے کے ساتھ وقت فراہم کرتی ہیں۔
تاہم ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ مکمل تنہائی مناسب نہیں۔ دادا دادی اور قریبی خاندان کی عملی مدد ماں کی ذہنی صحت کے لیے فائدہ مند ہوسکتی ہے۔ اصل ضرورت توازن کی ہے: کم رسمی ملاقاتیں، زیادہ عملی مدد، کم غیرضروری مشورے اور زیادہ یہ سوال کہ “آپ کو کس چیز کی ضرورت ہے؟”
