بارسلونا میں بدھ کے روز شہر کے سب سے اہم سالانہ تہوار لا مرسے کی تقریبات کا آغاز ہوگیا۔ اس سال میلے کے افتتاحی خطاب کے لیے سانتس کے معروف شراب فروش باپ بیٹی تونی اور میر تکسیل فالگراس کو منتخب کیا گیا، جنہوں نے اپنے خطاب میں مقامی تجارت، محلہ کلچر اور بارسلونا کی روایتی شناخت کے تحفظ پر زور دیا۔
بلدیہ کے سالون دے سانت میں خطاب کرتے ہوئے تونی فالگراس نے کہا کہ یہ خطاب صرف ان کا نہیں بلکہ شہر کے تمام تاجروں کا ہے۔ میرتکسیل نے کہا کہ مقامی دکان سے خریداری کا انتخاب دراصل محلے، سماجی روابط اور مقامی زندگی کو مضبوط بنانے کا ایک طریقہ ہے۔
دونوں نے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی یکسانیت اور بڑے شہروں میں مقامی کاروبار کے کم ہوتے کردار پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق بارسلونا میں بڑھتے ہوئے کرائے اور سرمایہ کاری کے باعث کئی روایتی کاروبار مشکلات کا شکار ہیں اور متعدد دکانیں بند ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
میرتکسیل نے کہا کہ شہر ایسی دکانوں سے محروم نہیں ہونا چاہتا جہاں لوگ جوتے، کتابیں اور کھلونے خریدنے کے ساتھ ساتھ دکاندار سے یہ بھی پوچھ سکیں کہ آج کیا تجویز کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بارسلونا کو دنیا کے دیگر بڑے شہروں کی طرح ایک جیسا نہیں بننا چاہیے، بلکہ اپنی منفرد زبان، ثقافت اور تجارتی روایت کو برقرار رکھنا چاہیے۔
میئر جاؤمے کولبونی نے بھی مقامی تجارت کے تحفظ کو شہری شناخت کے لیے اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ خاندان اپنے محلوں میں رہ سکیں اور انہیں بڑھتے اخراجات کے باعث شہر چھوڑنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔
افتتاحی تقریب کے بعد پلاسا سانت جاؤمے میں روایتی توک دِ انیسی بھی منعقد ہوا۔ تقریب کے دوران ایک رکن نے اپنی ساتھی کو شادی کی پیشکش کی جسے اس نے قبول کرلیا۔ اس سال لا مرسے میلے میں چینی روایتی رقص کی ایک کمپنی نے بھی شرکت کی، جبکہ شنگھائی کو میلے کے مہمان شہر کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔
