نیویارک /اسپین کے وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے بدھ کے روز کہا کہ اسپین اور امریکا کو جو تعلق جوڑتا ہے وہ ’’بروکلین برج کو سہارا دینے والے فولاد سے بھی زیادہ مضبوط‘‘ ہے اور دونوں ممالک کی حکومتوں کے درمیان پائے جانے والے نظریاتی اختلافات یا موجودہ سیاسی حالات سے بالاتر ہے۔
سانچیز نے یہ بات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ہفتے کے موقع پر اسپین، امریکا اور لاطینی امریکا کی معیشتوں کے موضوع پر منعقدہ ایک فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ یہ فورم اسپین-امریکا چیمبر آف کامرس نے منعقد کیا تھا۔
اسپین کے وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا براہِ راست نام نہیں لیا۔ ٹرمپ نے منگل کو عالمی رہنماؤں کے لیے ایک استقبالیہ دیا تھا، جس میں سانچیز نے مصروفیات کی وجہ سے شرکت نہیں کی۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ برسوں میں بعض معاملات پر اختلافات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
تاہم سانچیز نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کے مقابلے میں باہمی تعلقات اور مشترکہ مفادات کہیں زیادہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’ہم صرف تجارتی شراکت دار نہیں بلکہ اہم اور بنیادی شراکت دار ہیں، ہم صرف اسٹریٹجک اتحادی نہیں بلکہ ایک ہی سفر کے ساتھی ہیں؛ ہم صرف دوست نہیں بلکہ خاندان ہیں۔‘‘
سانچیز کے مطابق اسپین اور امریکا کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور سفارتی روابط دونوں ممالک کے لیے اہمیت رکھتے ہیں اور حکومتوں کے درمیان موجودہ اختلافات کو وسیع تر دوطرفہ تعلقات سے الگ دیکھنا چاہیے۔
