میڈرڈ/میڈرڈ میں حکومت کے نمائندہ دفتر (Delegación del Gobierno) نے 87 سالہ ماری کارمن کی بے دخلی کے سلسلے میں رہائش گاہ کے باہر قائم پولیس انتظامات سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل پولیس متعلقہ عدالتی کمیشن کے حکم کے تحت کارروائی کر رہی ہے۔
ماری کارمن میڈرڈ کے علاقے ریتیرو کی 87 سالہ رہائشی ہیں، جنہیں ان کے گھر سے بے دخل کرنے کا عمل عدالتی کارروائی کے تحت جاری ہے۔ حکومت کے نمائندہ دفتر کے ذرائع نے بتایا کہ ادارہ Calle Alcalde Sainz de Baranda نمبر 46 کے باہر پولیس کے انتظامات کی نگرانی نہیں کر رہا۔
ذرائع کے مطابق حکومتی نمائندہ دفتر نے بے دخلی کی مخالفت کی ہے، تاہم اس مؤقف کے باوجود پولیس پر عدالتی کمیشن کی جانب سے دی گئی ہدایت پر عمل کرنے اور کارروائی کو محفوظ ماحول میں مکمل کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
حکام نے وضاحت کی کہ عمارت کے اردگرد سیکیورٹی حصار اور وہاں داخلے کے ضوابط کے بارے میں فیصلے پولیس کے ذمہ دار افسران کرتے ہیں، جو عدالتی حکم کے تحت کام کر رہے ہیں۔
بے دخلی کے لیے عدالتی کمیشن کی آمد کے وقت عمارت کے اطراف ایک سیکیورٹی حصار قائم کیا گیا تھا، جس کے باعث ابتدائی طور پر میڈیا کے نمائندے بھی اس علاقے میں داخل نہیں ہو سکے۔ وزارت داخلہ کے ذرائع نے بھی واضح کیا کہ نیشنل پولیس نے صرف عدالتی حکم پر عمل کیا ہے۔
بعد ازاں صحافیوں کے لیے ایک مخصوص علاقہ مختص کر دیا گیا، جہاں میڈیا کے نمائندے اپنے فرائض انجام دے سکتے ہیں۔ تاہم عدالتی کمیشن کے کام کرنے والے علاقے کو اب بھی محدود رکھا گیا ہے اور صحافیوں کو وہاں داخلے کی اجازت نہیں۔
میڈرڈ حکومت کے نمائندہ دفتر نے کہا کہ میڈیا کو سیکیورٹی حصار کے اندر جانے سے روکنے کا فیصلہ صرف پولیس کی عملی اور سیکیورٹی ضروریات کی بنیاد پر کیا گیا اور ادارے کی جانب سے میڈیا کوریج روکنے یا مشکل بنانے کے لیے کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی۔
ذرائع نے مزید کہا کہ اس کے برعکس حکومت کے نمائندہ دفتر نے نیشنل پولیس سے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران صحافیوں، کیمرا مینوں، فوٹوگرافروں اور دیگر میڈیا کارکنوں کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا جائے اور آزادیٔ صحافت کا احترام کیا جائے۔
