میڈرڈ/ ہسپانوی ایسوسی ایشن اگینسٹ کینسر (AECC) نے کینسر کے خلاف تحقیق کے لیے مزید مالی وسائل فراہم کرنے، فنڈنگ کو مستقل رکھنے اور طویل مدت تک جاری رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم نے یہ مطالبہ عالمی یومِ تحقیقِ سرطان (World Cancer Research Day) کی دسویں سالگرہ کے موقع پر کیا، جو ہر سال 24 ستمبر کو منایا جاتا ہے۔
برسلز میں یورپ میں کینسر کی تحقیق سے متعلق ایک اسٹریٹجک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے AECC اور اس کی سائنسی فاؤنڈیشن کے صدر رامون رئیس نے کہا کہ کورونا وبا نے ثابت کیا کہ سیاسی عزم اور ترجیح کے ساتھ تحقیق انسانی جانیں بچا سکتی ہے۔ ان کے مطابق یورپ کو کسی نئی بحرانی صورتحال کا انتظار کیے بغیر صحت اور کینسر کی تحقیق کو اسٹریٹجک ترجیح بنانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کینسر کی تحقیق کا تسلسل برقرار رکھنا، کامیابی کو مریضوں پر مرتب ہونے والے اثرات سے جانچنا اور اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ کسی شہری کو اس کے رہائشی علاقے کی وجہ سے علاج یا تحقیق کے فوائد سے محروم نہ ہونا پڑے۔
AECC نے رواں ماہ ’’تحقیق کے اثرات: تحقیقاتی منصوبے جو زندگی کے منصوبوں کو آگے بڑھاتے ہیں‘‘ کے عنوان سے نئی مہم بھی شروع کی ہے۔ اس کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ سائنسی تحقیق میں موجودہ سرمایہ کاری مریضوں کی زندگیوں میں کس طرح عملی بہتری، زیادہ بقا اور بہتر معیارِ زندگی کا باعث بنتی ہے۔
تنظیم کے مطابق وہ اسپین میں کینسر کی تحقیق کے سب سے بڑے نیٹ ورک کی معاونت کر رہی ہے، جس کے لیے 157 ملین یورو سے زیادہ کی رقم مختص کی جا چکی ہے۔ اس رقم سے 792 تحقیقی منصوبے جاری ہیں، جن میں 3 ہزار سے زائد محققین شامل ہیں۔ 2020 سے اب تک ان منصوبوں کے ذریعے کینسر کے خلاف 1,950 سائنسی پیش رفتیں سامنے آ چکی ہیں، جبکہ صرف 2025 میں 352 نئے نتائج حاصل ہوئے۔
AECC نے کم شرحِ بقا والے ٹیومرز پر تحقیق کے لیے 10 ملین یورو کی دوسری خصوصی فنڈنگ بھی مختص کی ہے، جس میں گلیوبلاسٹوما، یعنی بالغ افراد میں عام اور خطرناک دماغی ٹیومر، پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ تحقیق کا مقصد اس بیماری کی ابتدا کو سمجھنا، اس کی روک تھام کے امکانات بڑھانا اور نئی امیونوتھراپیز تیار کرنا ہے، تاکہ 2030 تک کینسر میں 70 فیصد بقا کے ہدف کی جانب پیش رفت کی جا سکے۔
