لندن/ برطانوی حکومت نے غزہ اور مغربی کنارے میں تنازع سے متاثرہ فلسطینی آبادی کے لیے انسانی امداد اور ابتدائی بحالی کے اقدامات کو مضبوط بنانے کے لیے 88 ملین پاؤنڈ (102 ملین یورو سے زائد) کے نئے امدادی پیکیج کا اعلان کیا ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران اس پیکیج کا اعلان کیا۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں انسانی صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے اور مغربی کنارے میں تشدد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ملی بینڈ نے کہا کہ غزہ کے شہریوں کے لیے انسانی امداد تک بلا رکاوٹ رسائی انتہائی ضروری ہے اور برطانیہ ان افراد کے لیے طبی امداد کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے جنہیں فوری علاج کی ضرورت ہے۔
نئی امداد سے لاکھوں فلسطینیوں کو بنیادی خدمات فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس میں طبی معائنے، زخمی بچوں کے لیے بحالی کے پروگرام، ٹینکروں کے ذریعے صاف پانی کی فراہمی، ذہنی صحت کی خدمات اور کچرے کے انتظام جیسے اقدامات شامل ہیں۔
برطانوی حکومت کے مطابق اس امداد کے ذریعے برطانیہ کے تعاون سے چلنے والے مراکز صحت سے 9 لاکھ افراد تک طبی مشاورت حاصل کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ دھماکوں سے زخمی ہونے والے 1,000 بچوں کو بحالی اور مصنوعی اعضا کی سہولت فراہم کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
پیکیج کے تحت 9 لاکھ افراد تک ٹھوس کچرے کے انتظام کی خدمات فراہم کی جائیں گی، جبکہ تقریباً 1 لاکھ 50 ہزار افراد کو ہنگامی ٹینکروں کے ذریعے پینے کا صاف پانی مہیا کیا جائے گا۔ مزید برآں 21 ہزار افراد کو ذہنی صحت اور نفسیاتی معاونت کی خدمات فراہم کی جائیں گی۔
برطانوی وزیر خارجہ نے اسرائیلی حکومت سے غزہ میں انسانی امداد کی رسائی آسان بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ اسرائیلی حکومت پر زور دیتا ہے کہ وہ غزہ پر عائد پابندیوں کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔
یہ اعلان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران برطانیہ، اردن اور قطر کی جانب سے بین الاقوامی نمائندوں کے اجلاس کے موقع پر کیا گیا، جس میں غزہ کی انسانی صورتحال، امداد کی رسائی، طبی سہولیات کی فراہمی اور علاقے کی بحالی کے اقدامات پر غور کیا گیا۔
