میڈرڈ/ اسپین کی ٹیکس ایجنسی (AEAT) نے 2024 کے لیے ملک کے ایک ہزار سے زائد آبادی والے بلدیاتی علاقوں میں انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والے افراد کی آمدنی سے متعلق اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ اس اعداد و شمار میں باسک کنٹری اور ناوارا شامل نہیں، کیونکہ یہ دونوں خطے اسپین کے عام ٹیکس نظام سے الگ نظام رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2024 میں اسپین بھر میں اوسط مجموعی سالانہ آمدنی 33,239 یورو رہی، جو 2023 کے مقابلے میں 6 فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح اوسط دستیاب آمدنی 26,616 یورو ریکارڈ کی گئی، جس میں سالانہ بنیاد پر 5.5 فیصد اضافہ ہوا۔
اعداد و شمار کے مطابق میڈرڈ کا پوزویلو دے الارکون (Pozuelo de Alarcón) مسلسل چھٹے سال اسپین کا سب سے زیادہ اوسط مجموعی آمدنی رکھنے والا بلدیاتی علاقہ رہا۔ یہاں اوسط مجموعی آمدنی 92,564 یورو رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 5.2 فیصد زیادہ ہے، جبکہ اوسط دستیاب آمدنی 66,690 یورو تک پہنچ گئی۔
دوسرے نمبر پر مالاگا کا بیناہاویس (Benahavís) رہا، جہاں اوسط مجموعی آمدنی اچانک بڑھ کر 79,041 یورو ہوگئی، جبکہ 2023 میں یہ صرف 43,159 یورو تھی۔ رپورٹ کے مطابق کسی بڑی دولت کے مالک یا مالکان کی یہاں منتقلی اس غیر معمولی اضافے کی ممکنہ وجہ ہو سکتی ہے۔
تیسرے نمبر پر بوادیّا دل مونتے 76,478 یورو کے ساتھ رہا۔ اس کے بعد بارسلونا کے ماتادیپیرا، سانت خوست دیزورن اور سانت کوگات دل بایس بالترتیب 76,238، 69,706 اور 69,096 یورو کی اوسط مجموعی آمدنی کے ساتھ نمایاں رہے۔
دوسری جانب سب سے کم اوسط آمدنی والا بلدیاتی علاقہ گرانادا کا گواداہورتونا ہے، جہاں اوسط مجموعی آمدنی صرف 14,514 یورو رہی۔ اس کے بعد مالاگا کا بینامارگوسا، کادیز کا پورتو سیرانو، گرانادا کا مونتیخیکار اور کولومیرا، جبکہ باداخوس کے پویبلا دے اوباندو، ہیگیرا دے بارگاس، زاہینوس اور لا پارّا شامل ہیں۔
