بارسلونا: اسپین کی پارلیمنٹ نے حکومت کی جانب سے پیش کی گئی رہائش اور کرایہ داری سے متعلق دونوں ڈکریاں مسترد کر دی ہیں۔ ڈکریاں منظور نہ ہونے کی بنیادی وجہ جونتس، پاپولر پارٹی (PP) اور ووکس کے مخالفت میں ووٹ تھے۔
ان حکومتی اقدامات میں کمزور اور بے گھر ہونے کے خطرے سے دوچار خاندانوں کو بے دخلی سے تحفظ دینے، کرایہ داری کے معاہدوں میں توسیع اور موسمی و کمروں کے کرایوں کو منظم کرنے سمیت متعدد تجاویز شامل تھیں۔
وزیرِ ہاؤسنگ ایزابیل رودریگیز نے جونتس کو پیشکش کی تھی کہ ڈکریوں میں تبدیلیاں کرکے انہیں قانون سازی کے باقاعدہ عمل کے ذریعے پارلیمنٹ میں پیش کیا جا سکتا ہے، تاہم جونتس نے مخالفت میں ووٹ دینے کا فیصلہ برقرار رکھا۔
ووٹنگ سے قبل وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے پی پی، ووکس اور جونتس کے ارکان سے آخری اپیل کرتے ہوئے انہیں خبردار کیا کہ ان کے ووٹ کے سماجی نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ سانچیز نے ارکان سے ’’بہادر بننے‘‘ کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ انہیں اس فیصلے پر توقع سے پہلے اور زیادہ سختی سے پرکھے گی۔
دوسری جانب پارلیمنٹ کے باہر سیکڑوں افراد نے احتجاج کیا۔ مظاہرین نے عام ہڑتال کے مطالبات کیے اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ میڈرڈ کے پوئرتا دیل سول میں جاری احتجاجی کیمپ سے بھی کئی افراد احتجاج میں شریک ہوئے، جبکہ بارسلونا کے پلاسا کاتالونیا میں بھی رہائش کے بحران کے خلاف احتجاج جاری ہے۔
حکومت کی جانب سے پیش کی گئی پہلی ڈکری میں بے دخلی سے متعلق تحفظات کو 2030 تک بڑھانے، ’’وَلچر فنڈز‘‘ کو 2028 تک گھروں کی خریداری سے روکنے اور بعض ختم ہونے والے کرایہ داری معاہدوں میں دو سال کی توسیع کی تجاویز شامل تھیں۔
دوسری ڈکری میں کرایہ داری کے معاہدوں کی خودکار تجدید سے متعلق معاہدہ شامل تھا۔
ڈکریوں کی ناکامی کے بعد اسپین میں قبل از وقت انتخابات کا امکان بھی زیرِ بحث آ گیا ہے۔ سوشلسٹ ذرائع کے مطابق 29 نومبر سمیت مختلف تاریخوں پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم سانچیز کی ٹیم کا کہنا ہے کہ فی الحال قبل از وقت انتخابات کے آپشن پر غور نہیں کیا جا رہا۔
