بارسلونا میں ہاؤسنگ کے بڑھتے ہوئے بحران، مکانات کی بے دخلیوں اور مہنگے کرایوں کے خلاف ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور ملک بھر میں ہاؤسنگ کے مسئلے پر عام ہڑتال کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے حکومت سے رہائش کے حق کو یقینی بنانے اور موجودہ ہاؤسنگ پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں لانے کا مطالبہ کیا۔
یہ مظاہرہ کرایہ داروں کی یونین کی جانب سے ’’آؤ ہاؤسنگ کے کاروبار کو ختم کریں‘‘ کے نعرے کے تحت منعقد کیا گیا۔ مظاہرین پلاسا اور کینااونا سمیت مختلف مقامات پر جمع ہوئے اور حکومت و سیاسی جماعتوں پر ہاؤسنگ بحران کے حل کے لیے فوری اقدامات کا دباؤ ڈالا۔
مظاہرین کے مطابق ملک میں بڑھتے ہوئے کرایوں اور گھروں کی کمی نے عام شہریوں کے لیے رہائش حاصل کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ احتجاج میں غیر معینہ مدت کے کرایہ معاہدوں کی منظوری، قیاس آرائی پر مبنی جائیداد کی خریداری پر پابندی اور سستے گھروں کی تعداد میں اضافے کے لیے زیادہ آمدنی رکھنے والے افراد پر اضافی ٹیکس جیسے مطالبات پیش کیے گئے۔
منتظمین نے شرکا کی تعداد ایک لاکھ 20 ہزار بتائی، جبکہ سرکاری ذرائع کے مطابق تقریباً 20 ہزار افراد نے احتجاج میں شرکت کی۔
مظاہرہ بعد ازاں پاسیو دے گراسیا اور گران بیا کے علاقوں میں کشیدہ صورتحال اختیار کر گیا، جہاں بعض نقاب پوش مظاہرین اور موسوس دے اسکوادرا کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس کے مطابق مظاہرین کی جانب سے بوتلیں، شیشے اور کرسیاں پھینکی گئیں جبکہ متعدد کوڑے کے کنٹینرز کو آگ لگا کر سڑکوں پر رکاوٹ کے طور پر استعمال کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق مجموعی طور پر 32 کوڑے کے کنٹینرز جلائے گئے، جس کے نتیجے میں 42 ہزار یورو سے زائد کا مالی نقصان ہوا۔ ہاؤسنگ کے حق میں ملک گیر احتجاج پہلے ہفتے کے روز ہونا تھا، تاہم خراب موسمی حالات کے باعث اسے پیر تک مؤخر کر دیا گیا تھا۔
