میڈرڈ: گھر کے بنیادی حق اور مناسب رہائش کے لیے جدوجہد کی علامت بننے والی 87 سالہ ماریکامن اباسکال بدھ کے روز انتقال کر گئیں۔ ان کی وفات کی تصدیق کرایہ داروں کی یونین (Sindicato de Inquilinas) نے کی ہے۔
ماریکامن اباسکال کو 23 ستمبر کو میڈرڈ کے علاقے Alcalde Sainz de Baranda کی اس رہائش گاہ سے بے دخل کیا گیا تھا، جہاں وہ گزشتہ 71 برس سے رہائش پذیر تھیں۔ عدالتی حکم پر عمل درآمد کے دوران انہیں انتہائی خراب صحت کے باعث اسٹریچر پر گھر سے نکال کر Gregorio Marañón اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ درجنوں کارکنوں اور مقامی شہریوں نے بے دخلی روکنے کے لیے احتجاج کیا تھا۔
اسپتال میں زیر علاج ہونے کے باوجود ماریکامن نے ویڈیوز کے ذریعے رہائش کے بہتر حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کی اپیل کی۔ ان کی بے دخلی کے خلاف ہونے والے احتجاج نے بعد ازاں میڈرڈ کے مرکزی علاقے پُورتا دیل سول میں احتجاجی کیمپ کی شکل اختیار کر لی، جہاں مظاہرین نے ’’ماریکامن فرمان‘‘ کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔
یہ احتجاج کئی ہفتوں تک جاری رہا اور رہائش کے بحران کے خلاف تحریک اسپین کے دیگر شہروں تک بھی پھیل گئی۔ مظاہرین نے ’’ایک اور ماریکامن نہیں‘‘ کے نعرے کے ساتھ احتجاج کیا اور ملک گیر ہڑتال کا مطالبہ بھی سامنے آیا، جو 11 نومبر کو متوقع ہے۔
ماریکامن کے قانونی نمائندوں نے بالآخر مکان کی مالک کمپنی Urbagestión کے ساتھ معاہدہ کر لیا تھا، جس کے تحت انہیں آٹھ سال کا نیا کرایہ نامہ اور ایسی ماہانہ رقم مقرر کی جانی تھی جو ان کی خالص آمدنی کے 30 فیصد سے زیادہ نہ ہو۔ تاہم یہ معاہدہ بہت دیر سے طے پایا اور ماریکامن اپنے گھر واپس نہ جا سکیں۔
ماریکامن کو 1956 میں پہلی مرتبہ اپنے والد کے نام پر قائم کیے گئے پرانے کرایہ داری معاہدے کے تحت یہ گھر ملا تھا۔ بعد میں یہ معاہدہ ان کے نام منتقل ہوگیا۔ مکان کی مالک کمپنی نے 2018 میں جائیداد خریدنے کے بعد کرایہ داری ختم ہونے کا مؤقف اختیار کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا۔ ابتدائی فیصلے میں ماریکامن کے حق میں فیصلہ آیا، تاہم بعد میں اپیل عدالت نے مالک کے حق میں فیصلہ دیا اور سپریم کورٹ نے بھی 2023 میں ان کی اپیل مسترد کر دی۔
ان کی بے دخلی چوتھی کوشش میں عمل میں آئی، جس کے خلاف سینکڑوں افراد رات بھر عمارت کے باہر موجود رہے۔ ماریکامن، جو 50 فیصد معذوری کی حامل تھیں، کو طبی عملے نے اسٹریچر پر منتقل کیا۔
کرایہ داروں کی یونین نے ان کی وفات پر کہا کہ ان کی جدوجہد کا نقصان بہت بھاری ہے اور ان کا ورثہ آئندہ بھی رہائش کے حق کی تحریک کو متحرک کرتا رہے گا۔
