مبینہ انتہا پسند تنظیموں سے روابط رکھنے والے افراد کی موجودگی کا خدشہ، ہنگامی انخلا میں رکاوٹ اور تاریخی مقام کو نقصان پہنچنے پر تشویش
میڈرڈ: اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ کی علاقائی حکومت نے سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے مرکزی چوک پورتا دیل سول (Puerta del Sol) میں قائم احتجاجی کیمپ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں میڈرڈ حکومت کے وزیر برائے ماحولیات، زراعت اور داخلہ کارلوس نوویو نے ہفتے کے روز حکومتی نمائندے فرانسسکو مارتن کو خط لکھ کر کیمپ ہٹانے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی درخواست کی۔
خط میں علاقائی حکومت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کیمپ میں ایسے افراد موجود ہو سکتے ہیں جن کے مبینہ روابط ان تنظیموں سے ہوں جنہیں مختلف ممالک اور بین الاقوامی اداروں نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔ تاہم، فراہم کردہ رپورٹ میں ان خدشات کے حق میں کوئی حتمی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
میڈرڈ کی صدر ازابیل دیاز آیوسو نے بھی اس سے قبل اپنی جماعت کی ایک تقریب میں احتجاجی کیمپ کے منتظمین کے ممکنہ روابط کے بارے میں حکومتی نمائندے سے معلومات طلب کی تھیں۔
علاقائی حکومت کے مطابق، پورتا دیل سول ایک اہم عوامی اور سرکاری مقام ہے، جہاں روزانہ ہزاروں افراد آتے جاتے ہیں اور میڈرڈ کی صدارت کا دفتر بھی واقع ہے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ خیموں اور دیگر رکاوٹوں کے باعث کسی ہنگامی صورتِ حال میں سرکاری عمارتوں، میٹرو اور مضافاتی ٹرین اسٹیشن سے لوگوں کو نکالنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
حکومت نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ خیموں کی تنصیب سے چوک کے تاریخی ورثے کو نقصان پہنچ رہا ہے، اس لیے کیمپ ختم کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔
واضح رہے کہ ستمبر کے آخر سے سیکڑوں افراد رہائش کے بحران کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے وہاں خیمہ زن ہیں۔ یہ احتجاج 87 سالہ ماری کارمین کو میڈرڈ کے علاقے ریتیرو میں واقع ان کے گھر سے بے دخل کیے جانے کے بعد شروع ہوا تھا۔ وہ اسی ہفتے اسپتال میں انتقال کر گئی تھیں، جہاں انہیں بے دخلی کے بعد داخل کرایا گیا تھا۔
