میڈرڈ (10 اکتوبر 2026/دوست نیوز) اسپین میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) استعمال کرنے والی 10 یا اس سے زیادہ ملازمین کی حامل 60 فیصد کمپنیاں اب بھی اس ٹیکنالوجی کے تجرباتی مرحلے میں ہیں، جبکہ صرف 6 فیصد کمپنیوں نے اس کے نمایاں اور مؤثر استعمال کی اطلاع دی ہے۔ یہ صورتِ حال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسپین کو یورپ میں انٹرنیٹ نیٹ ورک اور توانائی کے بہترین بنیادی ڈھانچے کے حامل ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔
یہ انکشاف میڈرڈ میں امریکن چیمبر آف کامرس اِن اسپین (AmChamSpain) کے زیرِ اہتمام ’’گلوبل ٹرینڈز 2026‘‘ کانفرنس کے دوران کیا گیا۔ کانفرنس میں گوگل، ایچ پی، اوریکل اور اینتھروپک کے اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی اور اسپین میں مصنوعی ذہانت کے فروغ پر تبادلۂ خیال کیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ اسپین کے 95 فیصد گھرانوں اور دیہی علاقوں کے 86.3 فیصد حصوں تک انتہائی تیز رفتار نیٹ ورک کی سہولت دستیاب ہے، جبکہ یورپی یونین کے دیہی علاقوں میں یہ اوسط شرح 58.8 فیصد ہے۔ ملک کی مجموعی بجلی کی پیداوار میں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ بھی 55.5 فیصد ہے۔ اس کے علاوہ، اسپین میں کمپیوٹنگ کے 301 ایج نوڈز موجود ہیں، جس سے وہ یورپ میں تیسرے نمبر پر ہے۔
تاہم، جدید بنیادی ڈھانچے کے باوجود کاروباری اداروں میں مصنوعی ذہانت کا عملی استعمال توقع سے سست ہے۔ یوروسٹیٹ کے مطابق، 2025 میں اسپین کی 10 یا اس سے زیادہ ملازمین والی 20.3 فیصد کمپنیاں مصنوعی ذہانت استعمال کر رہی تھیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً دوگنا شرح تھی۔
کانفرنس میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ بڑی کمپنیوں اور چھوٹے کاروباری اداروں کے درمیان اے آئی کے استعمال کا فرق بڑھ رہا ہے۔ یورپی یونین میں بڑی کمپنیوں میں اس ٹیکنالوجی کے استعمال کی شرح 55 فیصد، جبکہ 10 سے 49 ملازمین والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں میں صرف 17 فیصد ہے۔
ماہرین نے زور دیا کہ اسپین کو بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے ساتھ انتظامی رکاوٹیں کم کرنے، چھوٹے کاروباروں میں مصنوعی ذہانت کو فروغ دینے اور قوانین میں استحکام پیدا کرنے پر بھی توجہ دینا ہوگی، تاکہ یہ ٹیکنالوجی حقیقی معاشی ترقی اور تحقیق و ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔
