کسی کا ایجنٹ نہیں اور نہ ہی تنخواہ لیتا ہوں، نہ میں پہلے فوج کے کہنے پر کام کرتا تھا اور نہ آئندہ کرونگا،چوہدری پرویز لوہسر

برسلز(دوست نیوز)چیئرمین ای یو پاک فرینڈ شپ فیڈریشن یورپ چوہدری پرویز اقبال لوہسر نے سوشل میڈیا ٹی وی چینل پر اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یورپ بھر میں جشن آزادی ومعرکہ حق ریلیاں اور کانفرنسز کامیابی سے جاری ہیں،دشمن بھارت نے 22 اپریل کو پہلگام کا خود ساختہ ڈرامہ رچا کر پاکستان کو دہشت گرد ملک ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی جس کا اختتام 10 مئی کو معرکہ حق کی صورت میں پاکستان کی تاریخی فتح سے نکلا جس کے بعد دنیا بھر میں پاکستان کے موقف کی تائید کی گئی، قوم نے انڈیا جھوٹے من گھڑت پرو پیگنڈے کا منہ توڑ جواب دیا،
ایک سوال کے جواب میں انہوں نےبتایا کہ 2 اگست سے جشن آزادی و معرکہ حق پروگرامات کا بارسلونا اسپین سے آغاز کیا جنرل مشرف دور سے لیکر اب تک بڑے بڑےپروگرامات کیے لیکن معرکہ حق کا نفرنس میںنوجوانوں نے پہلی مرتبہ بڑی تعداد میں شرکت کر کے پاکستانی ہونے کا حق ادا کر دیا اور بغیر کسی اختلافات کے تمام پروگرامات کامیابی سے جاری ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ معرکہ حق کے بعد ہی پاکستان کا کی ٹائم شروع ہوا، اختلافات جمہوریت کا حسن ہیں مگر منافقت کا قائل نہیں ہوں، ہمیشہ انڈین میڈیا کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑا ہوا ہاتھ میں سبز ہلالی پرچم اور افواج پاکستان کا جب نعرہ لگاتا ہوں تو بہت سے لوگوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھتے ہیں ،شہباز گل اور اس کے حواری افواج پاکستان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کرتے ہوئے ملک کے خلاف زہر اگلتے ہیں ،اٹلی بریشیاء میں نکالی گئی ریلیوں میں میرے خلاف دشنام طرازی کی گئی، مجھے مارنے ، زندہ گاڑنے کی دھمکیاں دیتے ہوئے طوفان بد تمیزی برپا کیا گیا اعلانیہ کہتا ہوں کہ مجھے لوہسر ، لوفر کہنے والوں کی پرواہ نہیں مگر ملک اور افواج پاکستان کے خلاف کی گئی بات نہیں سنوں گا بلکہ ایسے عناصر کی زبان پھینچ لی جائے گی ، آج مودی کی ناجائز اولادیں باہر بیٹھے کر ملک کے خلاف زہر اگل رہی ہیں انہیں بھی نکیل ڈالیں گے، ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر پرویز اقبال لوہسر نے کہا کہ کہتے ہیں کہ مجھے سپہ سالار کے پروگرام سے نکال دیا گیا شہباز گل کو بتانا چاہتا ہوں کہ 11 اگست کی فوتیج نکال لیں جب انہوں نے فیلڈ مارشل جہاں رہائش پذیر تھے چھ سے آٹھ بجے کی ویڈیو بنانے کے بھی پیسے دیئے تھے، کسی سےوعدہ کیا تھا کہ اس بارے بات نہیں کرونگا مگرمیں اور میرے ساتھیوں نے سپہ سالار سید عاصم منیر سے ملاقات کی تھی ، اگر کسی کو شک ہے تواپنے ٹاؤٹ ایجنٹس سے کنفرم کر لیں ، انہوں
نے کہا کہ برسلز میں ہونیوالے پروگرام اور فوٹوسیشن میں نظر نہیں آیا یہ ایک پرائیویٹ پروگرام تھا اور بغیر دعوت کے میں کہیں نہیں جاتا اگر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کوئی سرکاری پروگرام ہوتا اور ہمیں نہ بلایا جاتا تو پھر دلبرداشتہ ہوتے ، ہم تو کہیں نہیں بھاگے ، دس اگست کو پاکستان سوسائٹی ڈنمارک کے زیر اہتمام چوہدری ولایت خان کے جشن آزادی پروگرام میں شرکت کی ان کی مثال دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا کی ہے، اس پروگرام میں بھی شور مچانے کی کوشش کی گئی لیکن غیور پاکستانیوں نے دشمن ایجنٹوں کو پاکستان زندہ باد، افواج پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا کر چپ کروا دیا، ہمیں پاکستان دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہے نہ کہ ایک دوسرے کو مائنس کرنے کا، ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر چوہدری پرویز اقبال لوہسر نے کہا کہ شہباز گل کہتا ہے کہ مجھے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کر کے پھینک دیا گیا کہتا ہوں کہ وطن کی خاطر میری جان بھی حاضر، انہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان کے امیج کو برقرار رکھنے کیلئے اپنی انا ختم کرنا ہوگی چھپیں سال ہے یورپ سمیت دنیا بھر میں پاکستانیت کو فروغ رہا ہوں، پچیس کروڑ عوام ، اوور سیز پاکستانی افواج پاکستان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں، انہوں نے کہا کہ صدر پاکستان، وزیر عظم، چیئرمین سینٹ سمیت دیگر سیاستدان بھی جیل گئے اس وقت کوئی اور بھی جیل میں ہے اسے تھوڑا صبر کرنا چاہیے وقت آتا جاتا رہتا ہے مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ بین الاقوامی کمیونٹی میں تاثر دینا کہ پاکستان میں جو کچھ ہورہا ہے فوج کرارہی ہے اپنے ملک کی عدلیہ، آئین حکومت اپوزیشن کو روند رہے ہیں یہ کام ٹھیک نہیں ہر ایک کو اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر تنقید کرنی چاہیے پاکستان ہمیں پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملا اگر یقین نہ آئے تو صومالیہ، کشمیر والوں سے پوچھ لیں، اگر آپ کی پسند کی حکومت نہیں تو صبر کر لیں مگر ابھی رواج ہو گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر اپنے ویورز بڑھانے کے لئے فوج پر تنقید کرتے ہیں یورپ میں گالی گلوچ کلچر کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے دلیل سے بات کریں، میرا کسی پارٹی سے کوئی اختلاف نہیں اگر کوئی پارٹی اپنے لیڈر کیلئے سڑکوں پر نکلتی ہے تو ان کا حق ہے لیکن کسی کو گالی دینا کیچڑ اچھالنا مناسب نہیں ، کیا یہ طریقہ ٹھیک ہے کہ پاکستان کے سپہ سالار، فوج کو چوکوں پر گالیاں دی جائیں اگر کسی کو گالی دیں گے برا بھلا کہیں گے تو کیا وہ آپ پر پھول پھینکے گا ؟ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور یورپ میں ہمیشہ پل کا کردار ادا کرتے ہوئے تعلقات میں بہتری لانے کیلئے اقدامات کیے کسی کا ایجنٹ نہیں اور نہ ہی تنخواہ لیتا ہوں ۔ اوور سیز پاکستانی تمام بہروپیوں سے بخوبی آگاہ ہیں کہتے ہیں کہ مجھے فوج نے نکال دیا ہے نہ میں پہلے فوج کے کہنے پر کام کرتا تھا اور نہ آئندہ کرونگا پاکستان کا سبز ہلالی پرچم اور وطن عزیز کے محافظوں پر جان قربان ، میں کسی بھی گند کا حصہ نہیں بنوں گا اور نہ ہی بھی الیکشن لڑوں گا ، سیاسی قیادتوں کو تو میرائی چاہیے تنقید کرنے والے نہیں انشاء اللہ جلد یو کے،
امریکہ میں پاکستان زندہ باد ، افواج پاکستان زنده با دریلیاں نکالیں گے پاکستانیت ہی میرا عہدہ ہے یہ بازاری لوگ میرا کیا مقابلہ کریں گے یہ تو اپنے عہدے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں پاکستان پائندہ باد، افواج پاکستان زندہ باد