برلن( 9 اکتوبر 2026دوست نیوز)نوبیل کمیٹی نے جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی 85 سالہ جج ناوی پلّے (Navanethem ‘Navi’ Pillay) کو 2026 کا نوبیل امن انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ انہیں بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور نسل کشی کے خلاف جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کرنے پر یہ اعزاز دیا گیا ہے۔
ناوی پلّے جنوبی افریقہ کی ہائی کورٹ کی جج رہ چکی ہیں۔ انہوں نے روانڈا کے بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل کی صدارت بھی کی اور بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کی رکن کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ 2008 میں اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مقرر ہوئیں، جہاں انہوں نے شام، غزہ اور سری لنکا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھائی۔
پلّے نے 2021 میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے متعلق اقوام متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی سنبھالی۔ ستمبر 2025 میں اس کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں۔ اسرائیل نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔
روانڈا کے بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل میں اپنے دور کے دوران پلّے نے ایک تاریخی فیصلے میں اہم کردار ادا کیا، جس میں 1948 کے نسل کشی کنونشن کے تحت نسل کشی کے جرم کا تعین کیا گیا۔ ان کی قانونی خدمات کا بنیادی مقصد جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانا رہا ہے۔
نوبیل کمیٹی کے سربراہ یورگن واٹنے فریڈنیس نے کہا کہ پلّے کی انصاف اور انسانی وقار کے لیے جدوجہد نے زیادہ پُرامن دنیا کے خواہش مند افراد کو امید فراہم کی ہے۔
جرمنی کے شہر نیورمبرگ میں ایک تقریب کے دوران پلّے نے بین الاقوامی عدالتی نظام پر سیاسی دباؤ پر تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو اس خطرے کا سامنا ہے کہ قانون کی جگہ طاقتور کی مرضی حکمرانی کرنے لگے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کو ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، جبکہ امریکی انتظامیہ نے نوبیل انعام کے اعلان کے بعد عدالت کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان بھی کیا۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے پلّے پر اسرائیل کو بدنام کرنے کی کوشش کا الزام لگایا۔ نوبیل امن انعام کی تقریب 10 دسمبر کو اوسلو میں منعقد ہوگی۔
