"ماہ نور کی آمد "

از قلم : شنیلہ جبین زاہدی ۔۔بارسلونا سپین
"وہ دیکھو نور برساتا عرب کا تاجدار آیا
ملی راحت غریبوں کو یتیموں کو قرار آیا”
ابدی سکوت میں لپٹی ہوئی کائنات، فلک کی وسعتوں میں خاموشی کے سناٹے میں ڈوبا ہوا ستاروں کا جھرمٹ، اور زمین اپنی بانہوں میں انتظار کی تھکن لیے ہوئے۔ صحراؤں کی ریت، پہاڑوں کی چوٹیوں اور دریاوں کی روانی سب خاموشی میں کسی معجزے کی گواہی دے رہی تھی۔ انسانیت کی بے قراری، یتیموں کی آہوں، عورتوں کی زنجیروں میں رسوائی، غلاموں کی چیخیں، سب ایک ہی صدا میں کہہ رہی تھیں۔
"آؤ، ہمیں روشنی دو، ہمیں سکون دو!”
اور پھر وہ لمحہ آیا جب آمنہؓ کے گھر سے نور کا ایسا قافلہ نکلا جس نے کائنات کے ہر گوشے کو روشن کر دیا۔ یہ نور کسی عام ہستی کا نہیں بلکہ جانِ عالم ﷺ، فخرِ موجودات ﷺ، فخرِ دو عالم ﷺ، تاجدارِ عرب و عجم ﷺ، سرورِ کونین ﷺ، شفیعِ روزِ محشر ﷺ کا تھا۔
زمین نے اپنی بانہوں میں سکون محسوس کیا، آسمان نے جھوم کر خوشی منائی، اور فرشتے ایسے گنگنانے لگے جیسے خوشی میں رقص کر رہے ہوں۔ عبدالمطلبؓ نے جب آپ ﷺ کو اپنی گود میں اٹھایا تو آنکھوں سے آنسو اور دل سے سکون ایک ساتھ جاری ہوا۔
"چمک اٹھا مکہ، فلک نے کہا ہائے اللہ!
نور مصطفی ﷺ کی کرن نے دل ہر اک میں سما لیا”
قرآن و حدیث کی روشنی
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
"وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ” (الأنبیاء:107)
"اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر۔”
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"أنا رحمة مهداة”
"میں سراپا رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔”
آپ ﷺ کی زندگی ہر دل کے لیے سکون، ہر نظر کے لیے روشنی، اور ہر قدم کے لیے ہدایت ہے۔
"نور مصطفی ﷺ سے اجالا ہوا ہر ایک گھر
درود و نعت کی خوشبو سے مہک اٹھا ہر ایک شہر”
"ولادتِ باسعادت "
شبِ ولادت میں قصر کسریٰ کے کنگرے گر پڑے، فارس کے آتش کدے بجھ گئے، اور بحیرہ ساوہ خشک ہو گیا۔ مکہ کی وادی خاموش تھی مگر آمنہؓ کے گھر سے نکلنے والا نور سب مظاہرِ کائنات کو روشن کر گیا۔
عبدالمطلبؓ نے آپ ﷺ کو اپنی گود میں اٹھایا، دل میں سکون محسوس کیا اور آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ ان کے لبوں سے نکلا۔
"یہ وہ بچہ ہے جس کی آمد سے ظلمتیں ختم ہوں گی اور رحمت کی بارش ہو گی۔”
حضرت آمنہؓ کے دل میں بھی غیر معمولی روشنی محسوس ہوئی، گویا فرشتے ان کی آغوش میں نغمے گنگنا رہے تھے۔
"وہ روشنی جس نے ظلمت کے اندھیروں کو چاک کیا
ہر دل میں امید اور ہر آنکھ میں نور جگایا”
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں
"رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں گزارا ہوا ہر لمحہ زندگی کا سب سے قیمتی حصہ تھا۔ آپ ﷺ کی مسکراہٹ نے دل کی تاریکی کو دور کر دیا۔”
حضرت سلمان فارسیؓ کہتے ہیں:
"اگر دنیا کے تمام خزانے میرے پاس ہوں، تو بھی میں اپنی جان کو حضور ﷺ کے عشق کے بغیر کچھ نہیں سمجھتا۔”
حضرت زینبؓ اور حضرت فاطمہؓ کے حالات بھی بتاتے ہیں کہ حضور ﷺ کی تعلیمات گھر کے ہر گوشے کو روشنی سے بھر دیتیں۔
"ہر دل میں بسا نورِ مصطفی ﷺ
ہر آنکھ میں اشکِ شوق کے موتی ہیں”
"صوفیاء کرام کے اقوال و احوال”
حضرت بابا بلھے شاہؒ فرماتے۔
"نور محمد ﷺ کی جھلک دیکھنے والا ہر دل غلامی اور خود پسندی سے آزاد ہو جاتا ہے۔”
حضرت شاہ عبدالعزیزؒ فرماتے ہیں۔
"جب بندہ دل سے ذکرِ رسول ﷺ کرتا ہے تو زمین اور آسمان بھی اس کے لیے دعا کرتے ہیں۔”
"ذکرِ احمد ﷺ کی خوشبو سے مہکتی ہیں فضائیں
عشقِ مصطفی ﷺ کی روشنی سے روشن ہیں دلوں کی شامیں”
"گلشنِ حیات میں ہر خوشبو، محمد ﷺ کے نام کی ہے
زمین و آسمان میں ہر صدا، محمد ﷺ کے گن کی ہے”
"چمک اٹھا فلک، اجالا ہوا ہر گہوارہ
نور مصطفی ﷺ کی کرن سے روشن ہوا ہر کنارہ”
آج کے مسلمانوں کے حالات
آج امت مسلمہ مختلف بحرانوں میں گھری ہے
اخلاقی زوال
معاشرتی انتشار
دین سے دوری
علمی اور روحانی کمی
ہم خوشی کی محافل سجاتے ہیں مگر اپنے کردار میں روشنی نہیں لا رہے۔ ہمیں چاہیے کہ قرآن و سنت کو اپنا ضابطۂ حیات بنائیں۔
"اگر ہم سیرتِ مصطفی ﷺ پر چلیں
تو ظلمت و اندھیروں سے نجات پائیں”
اے امتِ محمد ﷺ!
یہ ماہِ نور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم اس ہستی ﷺ کے امتی ہیں۔ ہمیں چاہیے اپنے دلوں کو عشقِ مصطفی ﷺ سے معطر کریں۔ اپنے گھر، محلے، اور معاشرہ کو سنت سے روشن کریں۔ علم و عمل کو اپنا لائحۂ عمل بنائیں۔ اے امتِ محمد ﷺ! اٹھو، بیدار ہو جاؤ
صرف عشقِ مصطفی ﷺ میں ہے فلاح، اور سیرت میں نجات۔
ماہ نور کی آمد ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ
محبتِ مصطفی ﷺ صرف اظہار نہیں بلکہ عمل بھی ہے۔ ظلمت کو مٹانے کے لیے ہمیں روشنی بننا ہے۔ دلوں کو سکون، آنکھوں کو نمی، اور روح کو راحت حاصل کرنے کے لیے عشقِ مصطفی ﷺ کو اپنی زندگی میں شامل کرنا ہوگا
"یہ روشنی، یہ نور، یہ محبتِ محمد ﷺ
ہر دل کی تسکین، ہر روح کی راحت ہے”