برسلز: یورپ میں مہنگائی، تعلیمی اخراجات، رہائشی بحران اور سرکاری اخراجات میں کٹوتیوں کے خلاف احتجاجی تحریکیں شدت اختیار کرنے لگی ہیں۔ فرانس اور سپین کے بعد بیلجیئم میں بھی بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے، جہاں برسلز میں پولیس اور نقاب پوش مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے باعث متعدد سڑکوں پر کشیدگی پھیل گئی۔
پولیس کے اندازوں کے مطابق برسلز میں کفایت شعاری کے خلاف مارچ میں تقریباً 30 ہزار افراد نے شرکت کی۔ مرکزی ریلوے اسٹیشن کے قریب بعض مظاہرین نے سکیورٹی اہلکاروں پر پتھراؤ اور آتش بازی کا سامان پھینکا، جبکہ کئی مقامات پر سائیکلوں اور الیکٹرک اسکوٹرز کو آگ لگا دی گئی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس، واٹر کینن اور لاٹھیوں کا استعمال کیا، جس سے ٹریفک اور عوامی نقل و حمل بھی متاثر ہوئی۔ پولیس نے واضح کیا کہ تشدد میں ملوث افراد کو پُرامن احتجاج کرنے والوں سے الگ سمجھا جانا چاہیے۔
بیلجیئم کے شہر لیج میں بھی تعلیمی اخراجات اور تعلیمی اداروں کی صورتِ حال پر طلبہ کے احتجاج کے دوران جھڑپیں ہوئیں۔ اطلاعات کے مطابق ان واقعات میں 200 سے زائد افراد گرفتار اور درجنوں سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔ طلبہ کو کلاس رومز میں گنجائش سے زیادہ تعداد، تعلیمی وسائل کی کمی اور یونیورسٹی فیس میں اضافے پر اعتراض ہے۔ یونیورسٹی فیس 835 یورو سے بڑھا کر 1,194 یورو کرنے کی تجویز یا فیصلے نے بھی بے چینی میں اضافہ کیا ہے۔
ادھر فرانس میں طلبہ اور اساتذہ تعلیمی اداروں کی حالت بہتر بنانے، تدریسی عملے کی کمی پوری کرنے اور کلاس رومز میں رش کم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ فرانسیسی حکومت نے تقریباً 3,000 اہل اساتذہ بھرتی کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے، تاہم طلبہ یونینز احتجاج جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔
سپین میں رہائش کا بحران احتجاج کی اہم وجہ بنا ہوا ہے۔ کرایوں میں اضافے اور بے دخلیوں کے خلاف مظاہروں میں تیزی آئی ہے۔ میڈرڈ میں ماریا ڈیل کارمین اباسکال کی بے دخلی کے بعد وفات نے بھی رہائشی مسائل پر عوامی توجہ بڑھا دی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق تعلیم، رہائش اور بنیادی خدمات کے بڑھتے اخراجات یورپ میں عوامی بے چینی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
