اسپین کی یورپی یونین میں اسرائیل سے تجارتی تعلقات معطل کرنے کی تجویز

اسپین نے یورپی یونین کے سامنے اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات معطل کرنے کی تجویز پیش کی ہے تاکہ غزہ کی جنگ کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔
ہسپانوی وزیرِ خارجہ، یورپی یونین اور تعاون، خوسے مانوئل آلباريس نے ہفتہ کے روز یورپی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں یہ منصوبہ پیش کرنے کا اعلان کیا، جو کوپن ہیگن میں منعقد ہو رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت تجارتی تعلقات کو انسانی حقوق کے احترام سے مشروط کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
آلباريس نے کہا کہ یورپی یونین کو فوری اقدام کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق منصوبے کی بنیاد اس بات پر ہے کہ یورپی یونین کا کوئی بھی ملک اسرائیل کو اسلحہ نہ بیچے اور فلسطینی اتھارٹی کو مالی امداد فراہم کی جائے تاکہ اس کی معاشی گھٹن ختم ہو۔
وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ یورپی یونین چاہتی ہے کہ غزہ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد بغیر کسی رکاوٹ کے داخل ہو، کیونکہ اس وقت جو امداد پہنچ رہی ہے وہ ’’سمندر میں چند قطروں‘‘ کے مترادف ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ’’کسی کو بھی یہ حق نہیں ہونا چاہیے کہ وہ فیصلہ کرے کہ کس کو کھانا ملے اور کس کو نہیں‘‘۔
اسپین نے مزید مطالبہ کیا کہ یورپی یونین کو اسرائیل کے ساتھ ایسوسی ایشن معاہدہ معطل کرنا چاہیے کیونکہ یہ معاہدہ صرف انسانی حقوق کے احترام پر قائم رہ سکتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں اس معاہدے کو معطل کرنا ناگزیر ہے۔
اسی کے ساتھ ساتھ حکومت نے تجویز دی کہ ان تمام عناصر پر پابندیاں عائد کی جائیں جو دو ریاستی حل کو ناممکن بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آلباريس کے مطابق ان میں وہ ’’تشدد پسند آبادکار‘‘ بھی شامل ہیں جو فلسطین میں قیامِ امن کے امکانات کو سبوتاژ کر رہے ہیں۔