لسبن کی رِنگ میں خون کی ہولی، 22 سالہ ماتادور سانڈ کے حملے میں ہلاک،تماشائی بھی دل کا دورہ پڑنے سے چل بسا

IMG_7916

لسبن (دوست نیوز) – پرتگال کے دارالحکومت لسبن میں قائم پلازا دے توروس دی کامپو پیکینو میں ایک ہولناک سانحہ پیش آیا جہاں 22 سالہ نوجوان ماتادور مانویل ماریا ٹرینڈادے ایک نصف ٹن وزنی سانڈ کے حملے کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نوجوان ٹرینڈادے کس طرح سانڈ کی زد میں آ کر زمین پر گرا اور پھر بار بار حملوں کا نشانہ بنتا رہا۔ ابتدائی طبی امداد کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ شدید دماغی چوٹ اور بعد ازاں ہونے والے دل کے دوروں کے باعث وہ جانبر نہ ہو سکے۔ رپورٹس کے مطابق جان کنی کے عالم میں سانڈ نے ان کے جسم کو بھی چھلنی کر دیا تھا۔

یہ سانحہ صرف اکھاڑے تک محدود نہ رہا۔ مقامی میڈیا نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ ایک تماشائی، جس کی شناخت واسکو مورائیش بتیستا کے نام سے ہوئی، اچانک دل کی تکلیف کے باعث گر پڑا اور اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ وہ مہلک ایوریزم آف آؤرٹا کے باعث ہلاک ہو گئے۔

اس المناک واقعے نے پرتگال بھر میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سانڈوں کی لڑائی (کوریدا دی تووروس) کو “فن” قرار دینے یا اس پر پابندی عائد کرنے کے حوالے سے شدید اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔

مرنے والے ٹرینڈادے کی والدہ الزیرا بیرنگیل نے سوشل میڈیا پر اپنے بیٹے کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ایک خط لکھا:“میرا بیٹا ان جوانوں میں سے تھا جو اعزاز اور بہادری کے ساتھ جیکٹ پہنتے ہیں۔ یہ گروہ کبھی بھی سانڈ کو نقصان نہیں پہنچاتے، بلکہ انہیں فن اور ہنر کے ساتھ قابو کرتے ہیں۔”

دوسری جانب، پارٹی پیسوآش انیماش ناتوریزا (PAN) کی رکن اسمبلی اینیش دی سوزا ریئل نے پارلیمنٹ میں ایک قرارداد پیش کی ہے جس میں کامپو پیکینو میں فوری طور پر تمام سانڈوں کی لڑائیاں بند کرنے اور اس مقام کو ایک کثیرالمقاصد کھیلوں و ثقافتی مرکز میں تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

یہ واقعہ نہ صرف ایک نوجوان کی جان لے گیا بلکہ پرتگال میں صدیوں پرانی روایت پر سوالیہ نشان بھی کھڑا کر گیا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے