اسپین کے وزیراعظم 29 نومبر کے انتخابات کے نتائج کے حوالے سے پُرامید، بائیں بازو کی جماعتوں کا انتخابی اتحاد تاحال ناکام
اسپین کے وزیراعظم اور سوشلسٹ پارٹی (PSOE) کے رہنما پیدرو سانچیز نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے پارٹی کی ترجمان مونتسے مینگیز کو استعفیٰ دینے سے روکنے کی کوشش کی تھی، لیکن وہ ذاتی دباؤ کے باعث شدید پریشانی کا شکار تھیں۔ سانچیز کے مطابق، سیاست میں بڑھتی ہوئی نفرت اور جارحیت بعض اوقات ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتی ہے۔
جمعہ 16 اکتوبر کو برسلز میں یورپی کونسل کے اجلاس کے اختتام پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سانچیز نے کہا کہ مینگیز نے اپنے شریکِ حیات کے جائیداد سے متعلق کاروبار سامنے آنے کے بعد استعفیٰ دینے اور انتخابی فہرستوں میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ وزیراعظم نے بتایا کہ وہ اب تک مینگیز سے براہِ راست بات نہیں کر سکے، تاہم دونوں کے درمیان ٹیلی فون پر پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔
سانچیز نے کہا کہ انہیں پارٹی کے بعض ساتھیوں کے ذریعے معلوم ہوا تھا کہ مینگیز ذاتی طور پر انتہائی مشکل وقت سے گزر رہی ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاست بعض اوقات اچھے لوگوں کے ساتھ بھی برا سلوک کرتی ہے۔
وزیراعظم نے مینگیز کو ایک بہترین ترجمان، قابل سیاست دان اور پارٹی کا اہم اثاثہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ مینگیز سیاست چھوڑیں، لیکن ان کے ذاتی فیصلے کا احترام کرنا ضروری ہے۔
سانچیز نے اس موقع پر اپنی اہلیہ بیگونا گومیز اور بھائی دیود سانچیز کے خلاف جاری عدالتی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسپین میں گزشتہ برسوں کے دوران ایسی سرخ لکیریں عبور کی گئی ہیں جنہیں عبور نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔
دوسری جانب، 29 نومبر کے عام انتخابات سے قبل بائیں بازو کی جماعتوں کے درمیان مشترکہ انتخابی امیدواروں پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ اس کے باوجود سانچیز نے کہا کہ وہ انتخابی نتائج کے حوالے سے بہت خوش اور پُرامید ہیں۔ ان کا یقین ہے کہ گزشتہ آٹھ برسوں سے جاری ترقی کا سفر مزید چار سال تک جاری رہے گا۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ اسپین میں ترقی پسند حکومت کا برقرار رہنا انتہائی ضروری ہے۔
