آبنائے ہرمز میں ایک مال بردار جہاز ڈوبنے کے بعد ہزاروں جدید آئی فونز اور پرفیوم کی بوتلیں سمندر میں تیرتی ہوئی ساحل تک پہنچ گئیں۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں ایرانی شہریوں کو سمندر اور ساحل سے قیمتی موبائل فون جمع کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس واقعے نے خطے میں جاری کشیدگی کے دوران ایک غیر معمولی صورتِ حال پیدا کر دی ہے۔
ہسپانوی خبر رساں ادارے (20minutos) کی رپورٹ کے مطابق، یہ سامان سنگاپور کے پرچم بردار مال بردار جہاز جی ایف ایس پرائیڈ (GFS Pride) پر لدا ہوا تھا، جو متحدہ عرب امارات کی ملکیت تھا اور دبئی سے مختلف تجارتی اشیا لے کر جا رہا تھا۔
رپورٹ کے مطابق جہاز پر موجود عملے کے تمام 21 ارکان کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ سنگاپور کی میری ٹائم اینڈ پورٹ اتھارٹی نے بھی عملے کے محفوظ ہونے کی تصدیق کی۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ جہاز اس وقت سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد ڈوبا، جب وہ آبنائے ہرمز میں ایک ایسے راستے سے گزر رہا تھا جسے ایران نے غیر مجاز قرار دیا تھا۔
تاہم، سمندری حکام کی جانب سے مختلف معلومات سامنے آئی ہیں۔ حکام کے مطابق جہاز کو ایک نامعلوم نوعیت کے پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس اختلاف کے باعث جہاز کے ڈوبنے کی اصل وجہ تاحال واضح نہیں ہو سکی۔
آبنائے ہرمز مشرقِ وسطیٰ میں ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کے بعد سے کشیدگی اور بحری جہازوں سے متعلق واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی ممکنہ کارروائی کے خدشے کو مسترد نہیں کیا اور خبردار کیا ہے کہ کسی حملے کی صورت میں وہ مختلف ممالک میں امریکی مفادات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
