میڈرڈ/اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ کے مرکز میں اتوار 25 اکتوبر کو ہزاروں افراد 33ویں سالانہ جشنِ نقل مکانی مویشیاں (Fiesta de la Trashumancia) دیکھنے کے لیے جمع ہوئے۔ اس موقع پر 1,250 بھیڑوں اور 160 بکریوں پر مشتمل ریوڑ شہر کی مرکزی سڑکوں سے گزرا، جس نے شہریوں اور سیاحوں کی توجہ حاصل کرلی۔

دوپہر تقریباً 12 بجے میڈرڈ سٹی کونسل کے شعبہ شہری منصوبہ بندی، ماحولیات اور نقل و حرکت کے نمائندے بورخا کارابانتے نے پلاسا دے لا بیا میں چرواہوں اور مویشی پالنے والوں کا استقبال کیا۔ اس تقریب کا تعلق 1418 میں طے پانے والے تاریخی معاہدے سے ہے، جس کے تحت چرواہوں کو مویشیوں کے لیے مخصوص راستوں اور علاقوں سے گزرنے کے حقوق حاصل تھے۔

تقریب کے دوران تاریخی معاہدے کی قرأت کے بعد علامتی طور پر چرواہوں کی جانب سے ادا کیے جانے والے 50 مراویدی فی ہزار کی رقم وصول کی گئی۔ جشن میں روایتی لباس پہنے افراد، موسیقاروں اور علاقائی رقص پیش کرنے والے گروپوں نے بھی شرکت کی۔
ریوڑ میں قشتالی، روبیا دے ایل مولار اور اینٹریفینا نسلوں کی بھیڑیں شامل تھیں، جبکہ بکریوں کا تعلق گیسندیرا اور گواداراما نسلوں سے تھا۔

تقریب دیکھنے آنے والی ایلینا نامی خاتون نے کہا کہ شہر کی بلند عمارتوں اور ٹریفک کے درمیان بھیڑوں کو دیکھنا حیران کن ہے۔ ان کے مطابق دیہی زندگی آج بھی موجود ہے اور اسے اپنی اہمیت کے مطابق جگہ ملنی چاہیے۔
ارجنٹائن سے آنے والے جارج نے بتایا کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ شاہی محل کے قریب چہل قدمی کررہے تھے کہ اچانک اس جشن کا حصہ بن گئے۔ ان کے بچے اتنی بڑی تعداد میں بھیڑیں دیکھ کر حیران رہ گئے۔
اس سال پوئرتا دیل سول میں رہائشی بحران کے خلاف جاری دھرنے کے باعث جشن کا روایتی راستہ تبدیل کرنا پڑا۔ حکام نے متبادل راستہ اختیار کرکے روایت برقرار رکھی۔
دوسری جانب مویشی پالنے والوں نے جنگلاتی آگ کی روک تھام میں نقل مکانی پر مبنی مویشی بانی کی اہمیت اجاگر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ریوڑ جھاڑیوں اور خشک گھاس کو کم کرکے گرمیوں میں آگ کے خطرات گھٹانے میں مدد دیتے ہیں۔ میڈرڈ کی علاقائی حکومت نے بھی اس طریقۂ مویشی بانی کو آگ سے بچاؤ کی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا۔
