اسپین میں موسمِ خزاں کی آمد اور درجۂ حرارت میں کمی کے ساتھ فلو اور کووڈ-19 سے بچاؤ کی ویکسینیشن مہم شروع ہو چکی ہے۔ تاہم، ماہرینِ طب کے مطابق دونوں بیماریوں کے خلاف ویکسین لگوانے کے لیے مخصوص افراد کے گروپ مکمل طور پر یکساں نہیں ہیں، جس کے باعث یہ بحث جاری ہے کہ دونوں ویکسین ایک ہی وقت میں لگوانی چاہییں یا ان کے لیے الگ الگ شیڈول ہونا چاہیے۔
یونیورسٹی آف بارسلونا کی پروفیسر اینجیلا دومینگیز، یونیورسٹی آف زاراگوزا کی پروفیسر ازابیل ایگیلار اور یونیورسٹی آف لئیداکے پروفیسر پیری گودائے نے طبی جریدے دی کنورسیشن میں شائع ہونے والے مضمون میں اس معاملے پر روشنی ڈالی ہے۔
ماہرین کے مطابق اسپین میں کووڈ-19 کی ویکسینیشن کا بنیادی مقصد بیماری کی شدید صورتوں، اسپتال میں داخلے اور اموات کے خطرے کو کم کرنا ہے۔ اس ویکسین کی سفارش بالخصوص 70 سال سے زائد عمر کے افراد، نگہداشت کے مراکز میں رہنے والوں، حاملہ خواتین، طبی خطرات سے دوچار 12 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد اور شدید خطرے یا کمزور مدافعتی نظام والے چھ ماہ یا اس سے زیادہ عمر کے بچوں اور افراد کے لیے کی جاتی ہے۔
کووڈ کی ویکسین کی ایک خوراک تجویز کی جاتی ہے، خواہ پہلے ویکسین لگوائی گئی ہو یا نہیں، یا ماضی میں انفیکشن ہوا ہو۔ تاہم، گزشتہ خوراک یا تصدیق شدہ انفیکشن کے بعد کم از کم تین ماہ کا وقفہ ضروری ہے۔ کمزور مدافعتی نظام والے افراد کو اضافی خوراکوں کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔
دوسری جانب فلو کی ویکسین کا مقصد انفرادی تحفظ کے ساتھ بیماری کے پھیلاؤ کو کم کرنا بھی ہے۔ اسپین میں اس کی سفارش عموماً 60 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد، چھ سے 59 ماہ کے بچوں، حاملہ خواتین، طبی عملے اور دیگر مخصوص خطرے سے دوچار گروپوں کے لیے کی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق دونوں ویکسین ایک ہی وقت میں لگوانا اب بھی ترجیحی طریقہ ہے، کیونکہ اس سے وقت کی بچت ہوتی ہے، بار بار طبی مراکز جانے کی ضرورت کم ہوتی ہے اور ویکسین لگوانے کی شرح بہتر ہو سکتی ہے۔
تحقیقی شواہد کے مطابق دونوں ویکسین الگ الگ بازوؤں میں ایک ہی ملاقات کے دوران لگوانا محفوظ ہے۔ اس سے نہ تو کسی ویکسین کے مدافعتی اثر میں کمی آتی ہے اور نہ ہی اس کی افادیت متاثر ہوتی ہے۔
ماہرین نے واضح کیا کہ ان ویکسینوں کا بنیادی مقصد ہر انفیکشن کو مکمل طور پر روکنا نہیں، بلکہ بیماری کی شدت، اسپتال میں داخلے، انتہائی نگہداشت کی ضرورت اور اموات کے خطرے کو کم کرنا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ فلو عموماً نومبر سے فروری کے دوران زیادہ پھیلتا ہے، جبکہ کووڈ کا پھیلاؤ غیر متوقع اوقات میں بھی بڑھ سکتا ہے۔ اسی لیے مستقبل میں دونوں ویکسینیشن مہمات کے شیڈول پر نظرثانی کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
