بارسلونا کے مرکز میں سوشل میڈیا پر جمع ہونے والے 600 کے قریب نوجوانوں نے توڑ پھوڑ، دکانوں میں لوٹ مار اور آگ لگانے کے واقعات کیے، گرفتار افراد میں 73 نابالغ شامل ہیں۔
بارسلونا: اسپین کے شہر بارسلونا کے مرکزی علاقے میں ہفتے کی شام ہونے والے شدید ہنگاموں کے بعد کم از کم 128 افراد کو گرفتار کر لیا گیا، جن میں سے 73 نابالغ ہیں۔ یہ اعداد و شمار کاتالونیا کی پولیس موسوس دِ اسکوادرا کی سربراہ سیلویا کاتا نے کاتالونیا ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے بتائے۔
رپورٹس کے مطابق، 600 سے زائد نوجوان ان ہنگاموں میں شریک ہوئے۔ مظاہرین نے عوامی املاک کو نقصان پہنچایا اور کم از کم 14 تجارتی دکانوں میں لوٹ مار کی۔ بارسلونا کے میئر خائمے کولبونی نے اعلان کیا کہ ان واقعات میں ملوث افراد کو کسی صورت قانون سے بچنے نہیں دیا جائے گا۔
میئر نے کاتالونیا حکومت کی وزیر داخلہ نوریا پارلون کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بالغ ملزمان کے ساتھ ساتھ نابالغوں کے قانونی سرپرستوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ کاتالونیا حکومت اور بارسلونا کی سٹی کونسل نے گرفتار افراد کے خلاف قانونی کارروائی میں فریق بننے کا اعلان بھی کیا ہے۔
پولیس کی بھاری نفری تعینات، متعدد مقامات پر آگ لگائی گئی
ہنگاموں پر قابو پانے کے لیے پولیس کی خصوصی فورس بریمو کی 30 ٹیمیں، 210 سے زائد اہلکار اور شہری جرائم سے نمٹنے والے گروپ فورا کے تقریباً 20 اہلکار تعینات کیے گئے۔ فائر بریگیڈ نے بھی کارروائی کرتے ہوئے شرپسندوں کی جانب سے لگائی گئی کم از کم 33 چھوٹی آگ بجھائیں۔
حکام کے مطابق، پولیس کو پہلے ہی ہفتے کے روز ممکنہ پُرتشدد اجتماع کے بارے میں اطلاعات موصول ہو گئی تھیں۔ اسی وجہ سے شہر کے مرکزی علاقے کی بعض سڑکوں سے ملبہ اور کوڑے دان بھی ہٹائے گئے تھے، تاہم یہ اقدامات ہنگاموں کو روکنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوئے۔
پلاسا کاتالونیا سے شروع ہونے والا احتجاج پُرتشدد ہوگیا
نوجوان شام تقریباً پانچ بجے پلاسا کاتالونیا کے اطراف جمع ہونا شروع ہوئے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی گئی اس کال کا مقصد بظاہر نظام کے خلاف احتجاج تھا، لیکن چند گھنٹوں بعد صورتِ حال بگڑ گئی اور مظاہرین نے عوامی املاک کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا۔
مظاہرین نے پولیس پر اشیا پھینکیں، کوڑے دانوں اور کنٹینروں کو آگ لگائی، آتش بازی کے سامان اور شعلے چھوڑنے والی اشیا کا استعمال کیا اور دکانوں میں داخل ہو کر لوٹ مار کی کوششیں کیں۔
احتیاطی تدابیر کے طور پر علاقے کی متعدد دکانیں، بشمول معروف تجارتی مرکز ال کورٹے انگلیس، بند کر دی گئیں۔ خریداری کے لیے آنے والے متعدد شہری دکانوں کے اندر پھنس گئے، جبکہ بعض مقامات پر بس اسٹاپوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا۔
فرانس کے نوجوانوں کے احتجاج سے مشابہت
بارسلونا کے حکام نے ان واقعات کو فرانس میں حالیہ ہفتوں کے دوران ہونے والے نوجوانوں کے احتجاج سے مشابہ قرار دیا ہے۔
بارسلونا کے میئر خائمے کولبونی نے کہا کہ ان واقعات میں فرانس کے احتجاج کی نقل کرنے کا امکان موجود ہے۔ ان کے مطابق، اسے احتجاج کے ایک ’’عکس اثر‘‘ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
کاتالونیا کی وزیر داخلہ نوریا پارلون نے کہا کہ مظاہرین کسی واضح جائز مطالبے یا حقوق کے دفاع کے لیے جمع نہیں ہوئے تھے، بلکہ ان کا مقصد شہر میں توڑ پھوڑ کرنا تھا۔
احتجاج کے دوران ایک بینر پر کاتالان زبان میں ’’نظام کے خلاف، تعلیمی اداروں کی جدوجہد‘‘ کے الفاظ درج تھے۔ شام تقریباً ساڑھے چھ بجے پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی کی، جس کے بعد متعدد نوجوان قریبی سڑکوں کی جانب بھاگ گئے۔
کم عمر نوجوان بھی ہنگاموں میں شریک
موقع پر موجود صحافی لوئس بینوینوتی کے مطابق، ہنگاموں میں شریک افراد میں بہت کم عمر لڑکے اور لڑکیاں بھی شامل تھے۔ ان کے بقول، بعض نوجوانوں کی عمر 14 سال سے بھی کم تھی، جبکہ کچھ بڑی عمر کے افراد لوٹ مار کی کارروائیوں کو منظم کرتے دکھائی دیے۔
صحافی کے مطابق، بعض نوجوان چوری شدہ اشیا اور جوتے رکھنے کے لیے تھیلیاں تلاش کر رہے تھے، جبکہ دوسری جانب کچھ افراد نے دکانوں کو لوٹ مار سے بچانے کے لیے بیس بال کے بلّوں سمیت دیگر اشیا کے ساتھ حفاظت کی کوشش کی۔
عینی شاہدین نے اخبار لا وانگارڈیا کو بتایا کہ بعض پُرتشدد نوجوان آپس میں فرانسیسی زبان میں بات کر رہے تھے، جبکہ متعدد افراد بارسلونا کے مضافاتی علاقوں سے ان واقعات میں شرکت کے لیے آئے تھے۔
شہر کے مرکز میں آمدورفت محدود
شام تقریباً سات بجے موسوس پولیس اور شہری پولیس نے پلاسا یونیورسیتات اور پلاسا اورکیناؤنا کے درمیان واقع علاقے میں آمدورفت محدود کر دی۔ میٹرو اسٹیشن بند نہیں کیے گئے، تاہم کئی گھنٹوں تک مسافروں کے داخلے اور اخراج پر پابندیاں رہیں۔
پولیس ہیلی کاپٹر نے رات آٹھ بجے سے پلاسا کاتالونیا کے اوپر پرواز کی، جبکہ شہریوں اور سیاحوں کو متاثرہ علاقے سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق، شہر کے مرکز میں اکتوبر کے آغاز سے جاری رہائشی مسائل کے حوالے سے احتجاجی کیمپ لگانے والے افراد نے ان پُرتشدد واقعات میں حصہ نہیں لیا۔
کاتالونیا کے صدر کی شدید مذمت
کاتالونیا کے صدر سالوادور اییا نے ہنگاموں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کاتالونیا میں تشدد کی کوئی گنجائش نہیں اور کوئی بھی مقصد اس کا جواز فراہم نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنا جمہوری حق ہے، لیکن لوگوں پر حملہ کرنا، انہیں خوف زدہ کرنا اور املاک کو نقصان پہنچانا کسی کا حق نہیں۔ صدر نے موسوس دِ اسکوادرا پولیس کا شہریوں اور کاروباری اداروں کی حفاظت پر شکریہ ادا کیا اور واضح کیا کہ ذمہ دار افراد کو اپنے اقدامات کا جواب دینا ہوگا۔
