گیخون/ اسپین کے وزیراعظم پیدرو سانچیز نے پیر کے روز شمالی اسپین کے شہر گیخون میں آرمون شپ یارڈ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے بحری کمپنی بالیریا کے لیے تیار کیے گئے جدید برقی جہاز کا معائنہ کیا۔ یہ فیری ہفتے کے روز سمندر میں اتاری گئی تھی اور اسے اسپین اور مراکش کے درمیان ماحول دوست بحری سفر کے منصوبے کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ جدید فیری مکمل طور پر بجلی سے چلنے والی ہے اور آبنائے جبرالٹر میں طریفہ اور طنجہ کے درمیان تقریباً 18 سمندری میل کا فاصلہ طے کرے گی۔ اس سفر کے دوران جہاز سے کاربن اخراج نہیں ہوگا اور نہ ہی شور یا ارتعاش پیدا ہوگا۔
اس کی لمبائی 87 میٹر ہے اور اسے ایلومینیم سے تیار کیا گیا ہے۔ جہاز میں بڑی گنجائش والی بیٹریاں نصب ہیں، جنہیں تیز رفتار نظام کے ذریعے صرف 40 منٹ میں دوبارہ چارج کیا جا سکے گا۔
یہ ان دو برقی فیریوں میں پہلی ہے جنہیں بالیریا اس بحری راستے پر چلائے گی۔ اس منصوبے پر مجموعی طور پر 200 ملین یورو کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جس میں دونوں جہازوں کی تعمیر اور بندرگاہوں پر بیٹریاں چارج کرنے کے لیے ضروری سہولیات کی تیاری شامل ہے۔
پہلی فیری 2027 کے موسمِ گرما سے خدمات شروع کرے گی، جبکہ دوسری فیری، جو اسی شپ یارڈ میں زیرِ تعمیر ہے، بعد میں کمپنی کے بیڑے میں شامل ہوگی۔
دونوں جہاز یورپ اور افریقہ کے درمیان پہلے ایسے گرین کوریڈور کا حصہ ہوں گے جہاں بحری سفر کے دوران کاربن اخراج نہیں ہوگا۔ بالیریا کے صدر اڈولفو اوتور کے مطابق، یہ منصوبہ یورپی یونین کے 2050 تک خالص صفر اخراج کے ہدف کی جانب پیش رفت کو کئی دہائیاں تیز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
آرمون شپ یارڈ کے مطابق، دونوں جہازوں کی تعمیر سے روزانہ 300 سے زائد براہِ راست ملازمتیں پیدا ہو رہی ہیں۔ یہ شپ یارڈ بالیریا کے لیے اب تک پانچ فیریاں تیار کر چکا ہے اور یورپ کے نمایاں نجی جہاز ساز اداروں میں شمار ہوتا ہے۔
پیدرو سانچیز نے اس دورے میں آستوریاس کے علاقائی صدر ایدریان باربون، حکام اور کمپنی کے اعلیٰ عہدیداروں کے ہمراہ شرکت کی۔ سمندر میں اتارے جانے کے بعد فیری کے اندرونی حصوں اور معاون نظاموں کی تیاری مکمل کی جائے گی۔ اس کے بعد سمندری آزمائشیں ہوں گی تاکہ جہاز کی حفاظت اور عملی کارکردگی کی تصدیق کی جا سکے۔
