بارسلونا/ اسپین کے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز نے بارسلونا میں گزشتہ ہفتے ہونے والے پرتشدد مظاہروں اور توڑ پھوڑ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ تشدد میں ملوث افراد کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی اور پولیس اہلکاروں سمیت متاثرہ تاجروں کو حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
سانچیز نے پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ تشدد کرنے والوں کے لیے صفر برداشت کی پالیسی اپنائی جائے گی۔ انہوں نے موسوس دی اسکوادرا (کاتالونیا کی پولیس)، بارسلونا کی شہری پولیس اور ان تاجروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جن کے کاروبار کو مظاہروں کے دوران نقصان پہنچایا گیا اور جن کی دکانوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی گئی۔
وزیرِاعظم نے ہفتے کے روز بارسلونا کے پلاسا دے کاتالونیا اور اس کے آس پاس پیش آنے والے واقعات کو خالصتاً توڑ پھوڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات کو جمہوری عمل کا حصہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کے مطابق، ہفتے کی سہ پہر چار بجے سے رات دس بجے تک جاری رہنے والے واقعات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
سانچیز نے واضح کیا کہ ان واقعات کے سلسلے میں گرفتار کیے گئے 128 افراد کو قانون کے مطابق انصاف کا سامنا کرنا ہوگا۔
بارسلونا کے میئر خائمے کولبونی نے بھی ملزمان کے خلاف کارروائی اور نتائج کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے گرفتار کیے گئے 76 کم عمر افراد کے اہلِ خانہ کی انتظامی ذمہ داری کے معاملے پر بھی توجہ دلائی۔
حکام کے مطابق، ان ہنگاموں کے دوران شہری املاک کو تقریباً 36 ہزار یورو کا نقصان پہنچا، جبکہ اطراف کی 23 دکانوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی گئی۔
متاثرہ کاروباروں کی مدد کے لیے بارسلونا کی مقامی حکومت نے پیر کے روز پانچ لاکھ یورو کا فنڈ فعال کیا ہے۔ میئر کولبونی کے مطابق، یہ رقم ان کاروباروں کی مدد کے لیے استعمال ہوگی جن کے نقصانات کی تلافی انشورنس کمپنیاں نہیں کریں گی۔
حکام نے شہر میں امن و امان برقرار رکھنے اور تاجروں کے تحفظ کے لیے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔
