اسپین کی سابق وزیرِ محنت و سماجی تحفظ فاطمہ بانییز تولیدو کے علاقے میں پیش آنے والے خوفناک ریلوے حادثے میں لاپتا افراد میں شامل ہیں۔ ہسپانوی اخبار ’ال پیریودیکو‘ کے مطابق، اسپین کی کاروباری تنظیموں کی کنفیڈریشن (CEOE) نے تصدیق کی ہے کہ فاطمہ بانییز حادثے کا شکار ہونے والی ٹرینوں میں سے ایک پر سوار تھیں۔
فاطمہ بانییز، جو اس وقت فاؤنڈیشن CEOE کی صدر ہیں، سیویل جا رہی تھیں، جہاں انہیں اندلس کی کاروباری تنظیموں کی کنفیڈریشن (CEA) کے زیرِ اہتمام یومِ کاروبار کی تقریب میں شرکت کرنا تھی۔ حادثے کی اطلاع ملنے کے بعد یہ تقریب منسوخ کر دی گئی۔
رپورٹ کے مطابق، حادثہ بدھ 28 اکتوبر کی صبح 8 بج کر 54 منٹ پر تولیدو صوبے میں لاس یبینیس اور اُردا کے درمیان پیش آیا۔ میڈرڈ سے سیویل جانے والی ایک اے وی ای (AVE) تیز رفتار ٹرین اور ایک ایریو (Iryo) ٹرین آپس میں ٹکرا گئیں۔ حکام کے مطابق، حادثے میں ابتدائی طور پر 30 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔ امدادی اداروں کے مطابق، درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، ٹرین کے دو ڈبے ایک ڈھلوان سے نیچے جا گرے، جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آئیں۔
فاطمہ بانییز، سابق وزیرِاعظم ماریانو راخوی کی حکومت میں وزیرِ محنت رہ چکی ہیں۔ ان سے تاحال رابطہ نہیں ہو سکا۔ سیویل کے میئر خوسے لوئس سانس نے صحافیوں کو بتایا کہ ممکن ہے وہ زخمی ہوں، کسی سے رابطہ نہ کر پائی ہوں یا ان کا موبائل فون گم ہو گیا ہو۔
میئر نے زور دیا کہ اس مرحلے پر کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہے۔ حکام حادثے کی تحقیقات اور متاثرین کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
