الیکشن کمیشن نے پیدرو سانچز کی ویڈیو کو انتخابی قانون کی ممکنہ خلاف ورزی قرار دے دیا، وزیرِ اطلاعات الما سائیز کے خلاف بھی شکایت جزوی طور پر منظور
اسپین کے مرکزی الیکشن کمیشن (JEC) نے وزیرِاعظم پیدرو سانچز کے خلاف پاپولر پارٹی (PP) کی جانب سے دائر شکایت منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ میڈرڈ کے رینا صوفیہ میوزیم میں مشہور پینٹنگ ’گورنیکا‘ کے سامنے بنائی گئی ان کی ویڈیو انتخابی قانون کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔
یہ ویڈیو 24 اکتوبر کو سانچز کے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹ، ایکس، پر جاری کی گئی تھی۔ اس میں وزیرِاعظم میوزیم کے مختلف حصوں میں گھومتے ہوئے اپنی حکومت کی خارجہ پالیسی کا ذکر کرتے اور دیگر سیاسی فیصلوں سے اس کا موازنہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے سانچز کو ہدایت دی ہے کہ وہ متعلقہ ویڈیو ان تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ہٹا دیں جہاں اسے نشر کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی انہیں انتخابی مدت کے دوران سرکاری وسائل اور سہولتوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
کمیشن کے مطابق سانچز کو میوزیم میں سربراہِ حکومت کے لیے مخصوص پروٹوکول کے تحت داخلے کی سہولت ملی، جبکہ میوزیم کے عملے اور سکیورٹی نے بھی انتظامات کیے۔ اس ریکارڈنگ کے لیے کوئی فیس ادا نہیں کی گئی۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ سرکاری وسائل سے حاصل ہونے والی سہولتوں کو انتخابی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنا ادارہ جاتی غیر جانب داری کے اصول سے متصادم ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب، الیکشن کمیشن نے وزیرِ شمولیت و سماجی تحفظ اور حکومتی ترجمان الما سائیز کے خلاف بھی پی پی کی شکایت جزوی طور پر منظور کر لی ہے۔ یہ شکایت 20 اکتوبر کو کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں پنشن پالیسی سے متعلق ان کے بیانات پر دائر کی گئی تھی۔
کمیشن کے مطابق ان کے بعض بیانات میں سابقہ پی پی حکومت کی پنشن پالیسی اور موجودہ حکومت کی پالیسی کے درمیان سیاسی موازنہ کیا گیا۔ حکومتی ترجمان کو متنازع بیانات سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ہٹانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
تاہم، وزیرِ ہاؤسنگ ازابیل رودریگز کے خلاف اسی پریس کانفرنس سے متعلق شکایت مسترد کر دی گئی۔ الیکشن کمیشن نے دونوں وزیروں کو انتخابی مدت میں سرکاری غیر جانب داری برقرار رکھنے کی تنبیہ بھی کی ہے۔
