بارسلونا میں بلوکس (Blocus) تحریک کی جانب سے احتجاجی اجتماعات کی کال کے باوجود ہفتے کا دن مجموعی طور پر پُرامن گزرا۔ گزشتہ ہفتے ہونے والے ہنگاموں، توڑ پھوڑ اور دکانوں میں لوٹ مار جیسے واقعات اس مرتبہ پیش نہیں آئے۔ تاہم بارسلونا کے میئر ژاؤمے کولبونی نے خبردار کیا ہے کہ رات ابھی باقی ہے اور پولیس کی سیکیورٹی کارروائیاں آئندہ چند گھنٹوں تک جاری رہیں گی۔
میئر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں امن برقرار رہنا بہتر منصوبہ بندی، پولیس کی مؤثر حکمت عملی اور غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق اس مرتبہ پولیس گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں زیادہ بہتر تیاری کے ساتھ میدان میں موجود تھی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ’’ہم ایک ہفتہ پہلے سے زیادہ بہتر طور پر تیار ہیں، لیکن اپنی چوکسی میں کوئی کمی نہیں کریں گے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ بلوکس ایک نیا رجحان ہے جو اب یورپ کے دیگر شہروں میں بھی پھیل رہا ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے خصوصی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
کولبونی نے پُرامن صورتحال کا ایک اہم سبب نابالغ نوجوانوں کے والدین کو دی جانے والی آگاہی اور پولیس کی حالیہ گرفتاریوں کو قرار دیا۔ انہوں نے موسوس دی اسکوادرا اور گواردیا اربانا کے درمیان بہتر رابطے اور مشترکہ کارروائیوں کو بھی سراہا۔
میئر کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران بلوکس سے مبینہ تعلق کے الزام میں چار افراد کی گرفتاریوں نے بھی ممکنہ ہنگاموں کو روکنے میں کردار ادا کیا۔
کولبونی نے کہا کہ بارسلونا آزادی اور جمہوری حقوق کا شہر ہے، جہاں احتجاج کرنا ہر شہری کا حق ہے، لیکن احتجاج کے نام پر تشدد، توڑ پھوڑ اور عوام میں خوف پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ شہر میں توڑ پھوڑ کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی برقرار رہے گی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے پولیس آپریشن جاری رہے گا۔ میئر نے زور دیا کہ انتظامیہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری تمام اقدامات کرے گی۔
