میڈرڈ/ اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ کے مرکزی چوک پورتا دیل سول میں جاری احتجاجی دھرنے کے شرکا نے اعلان کیا ہے کہ وہ 11 نومبر کی ملک گیر عام ہڑتال تک دھرنا جاری رکھیں گے، تاہم احتجاج کے بیشتر منتظمین چوک سے نکل کر مختلف محلوں میں اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔
پیر کے روز دھرنے میں باقی رہ جانے والے شرکا کے نمائندوں نے ریچھ اور میڈرونیو کے مجسمے کے قریب ایک مشترکہ اعلامیہ پڑھا، جس میں 11 نومبر کی عام ہڑتال کی حمایت میں بھرپور اور یکجہتی پر مبنی اقدامات کرنے کا اعلان کیا گیا۔ مظاہرین نے خریداری کے بائیکاٹ سمیت احتجاج کے دیگر طریقوں کی بھی حمایت کی۔
شرکا نے بے دخلی اور گھروں سے زبردستی نکالے جانے کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ہسپانوی آئین کے آرٹیکل 47، جس میں مناسب رہائش کے حق کی ضمانت دی گئی ہے، کو قانونی طور پر قابلِ نفاذ بنایا جائے۔
مظاہرین نے بڑے جائیداد مالکان، سرمایہ کاری فنڈز اور بے دخلی کے عمل میں شامل نجی کمپنیوں پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ ادارے لوگوں کو گھروں سے نکالنے کے عمل سے مالی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے سوشل ہاؤسنگ میں اضافے، اجتماعی مراکز کے قیام اور ملازمتوں کے حالات بہتر بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔
دھرنے کے شرکا نے ریلوے حادثات میں رواں سال ہونے والی 115 ہلاکتوں پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔ ان کا الزام تھا کہ سرکاری ٹرانسپورٹ خدمات اور بنیادی ڈھانچے کی نجکاری ان حادثات کی ایک وجہ ہے۔ انہوں نے ذمہ داروں کے تعین اور نجکاری کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب دھرنے کے بیشتر منتظمین نے اپنی سرگرمیاں محلوں میں منتقل کرنے اور تحریک کو ’’موومنٹ 26 ایس‘‘ کے نام سے سماجی اور مزدور تحریک میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اسی دوران دھرنے میں بے گھر افراد نے اپنی الگ تنظیم ’’ایسوسی ایشن آف ہوم لیس پیپل‘‘ بھی قائم کرلی ہے، جس کے تقریباً 50 ارکان پورتا دیل سول میں قیام جاری رکھیں گے۔
حکومت کی میڈرڈ میں نمائندہ انتظامیہ نے گزشتہ ہفتے دھرنا ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا، جبکہ میڈرڈ کی علاقائی حکومت نے سابق حکومتی نمائندے فرانسسکو مارتن کے خلاف قانونی شکایت درج کرائی ہے۔
