میڈرڈ/اسپین کے وزیراعظم پیدرو سانچیز نے بدھ کے روز ایبرو امریکی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تمام سیاسی، نظریاتی اختلافات اور وقتی حالات سے بالاتر ہو کر اپنے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں اور دیگر ممالک کے ساتھ بھی تعاون کے نئے راستے تلاش کریں۔
پیدرو سانچیز نے یہ بات 30ویں ایبرو امریکی سربراہی اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جس کی صدارت اسپین کے شاہی جوڑے نے کی۔ اس موقع پر انہوں نے یورڈا (صوبہ تولیڈو) میں پیش آنے والے ٹرین حادثے کے بعد ایبرو امریکی ممالک کی جانب سے اسپین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور ہمدردی پر شکریہ ادا کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہماری یادیں حادثے میں جاں بحق ہونے والوں، زخمیوں، ان کے اہل خانہ اور عزیزوں کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایبرو امریکی سربراہی اجلاس میں شریک ممالک محض ایک سیاسی اتحاد نہیں بلکہ مشترکہ اقدار اور باہمی جذبات سے جڑی ہوئی ایک برادری ہیں، جس کے تعلقات کسی بھی وقتی صورتحال یا اختلاف سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔
سانچیز کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایبرو امریکی ممالک کے رہنماؤں کے درمیان نظریاتی اور سیاسی اختلافات نمایاں ہیں۔ خاص طور پر ارجنٹائن کے صدر ہاویئر میلی اور اسپین کے وزیراعظم پیدرو سانچیز کے درمیان جبکہ برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا کے ساتھ بھی تلخ بیانات کا تبادلہ ہو چکا ہے۔
سانچیز کے مطابق یہ سربراہی اجلاس صرف ملاقاتوں اور مذاکرات کا فورم نہیں بلکہ مشترکہ تعلقات کو عملی اقدامات اور ٹھوس وعدوں میں تبدیل کرنے کا ذریعہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں اس برادری کو اپنی سیاسی، اقتصادی اور سفارتی طاقت میں مزید اضافہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کو چیلنج کیا جا رہا ہے اور بعض ممالک تحفظ کے نام پر سرحدیں بند کرنے، رکاوٹیں کھڑی کرنے اور عالمی تعاون محدود کرنے کی پالیسی اپنا رہے ہیں۔
سانچیز نے اس سوچ کے برعکس کھلے پن، نئے اتحاد اور امن کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کو ہوا دینے والوں کے مقابلے میں ہمیں امن کے پیامبر بننا چاہیے۔
انہوں نے یورپ اور لاطینی امریکہ کے تعلقات مضبوط بنانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اسپین مستقبل میں بھی اس مقصد کے لیے کام جاری رکھے گا۔ انہوں نے یورپی یونین اور کینیڈا کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کو مثال قرار دیا اور کہا کہ اسپین اپنے پرتگالی بھائیوں کے ساتھ مل کر لاطینی امریکی ممالک کے لیے یورپ کے دروازے کھلے رکھنے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
