اسپین کی سپریم کورٹ نے سیوتا (Ceuta) میں مراکش سے بڑے پیمانے پر تارکینِ وطن کی آمد کے معاملے پر وزیراعظم پیدرو سانچیز اور ان کی کابینہ کے خلاف دائر قانونی درخواست خارج کردی ہے۔ عدالت نے اسی معاملے پر دائر دیگر پانچ شکایات بھی مسترد کردی ہیں، جن میں تین شکایات تنظیم مانوس لیمپیا (Manos Limpias) اور دو عام شہریوں کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔
یورپا پریس کے مطابق یہ شکایات گزشتہ جولائی کے آخر میں مراکش سے بڑی تعداد میں لوگوں کے سیوتا میں داخلے کے معاملے پر حکومتی کردار سے متعلق تھیں۔ درخواست گزاروں نے وزیراعظم اور وزرائے کابینہ پر فرائض کی انجام دہی میں غفلت اور انتظامی اختیارات کے ناجائز استعمال جیسے مبینہ جرائم کے الزامات عائد کیے تھے۔
سپریم کورٹ نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ دستیاب دستاویزات اور پیش کردہ معلومات اس واقعے کی تحقیقات کی ضرورت ضرور ظاہر کرتی ہیں، تاہم فی الحال ایسے ٹھوس شواہد موجود نہیں جو وزیراعظم یا دیگر متعلقہ حکام کے خلاف باقاعدہ عدالتی کارروائی شروع کرنے کا جواز فراہم کرسکیں۔
عدالت کے مطابق شکایات میں مختلف قانونی الزامات تو عائد کیے گئے ہیں، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ہر نامزد شخص نے واقعے میں انفرادی طور پر کیا کردار ادا کیا تھا۔
سپریم کورٹ کے فوجداری شعبے نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ درخواستیں خارج کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ واقعے کو قانونی طور پر جرم سے پاک قرار دے دیا گیا ہے یا نامزد افراد کی فوجداری ذمہ داری ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئی ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ اگر قومی عدالت (Audiencia Nacional) میں جاری تحقیقات کے دوران ایسے ٹھوس شواہد سامنے آتے ہیں جن سے کسی ایسے اعلیٰ عہدیدار کا انفرادی کردار ثابت ہوسکے جس کا مقدمہ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہو، تو تحقیقاتی جج ماریا تاردون متعلقہ شواہد اور وجوہات کے ساتھ معاملہ دوبارہ سپریم کورٹ کو بھیج سکتی ہیں۔
اس کے بعد سپریم کورٹ فیصلہ کرے گی کہ آیا متعلقہ شخصیت کے خلاف عدالتی کارروائی شروع کرنا اس کے دائرہ اختیار میں آتا ہے یا نہیں۔
یوں عدالت نے فی الحال تمام درخواستیں خارج کردی ہیں، تاہم مستقبل میں نئے شواہد سامنے آنے کی صورت میں قانونی کارروائی کا راستہ کھلا رکھا ہے۔
